متعدد میڈیا رپورٹوں کے مطابق اسرائیل نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ترین بیلسٹک میزائل استعمال کیا، جس کے نتیجے میں گذشتہ ہفتے کے روز وہ متعدد اعلیٰ ایرانی حکام سمیت ہلاک ہو گئے۔ امریکی اخبار 'نیویارک پوسٹ' نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ میزائل تقریباً 1240 میل کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ زمین کے کرہ ہوائی سے باہر نکل کر دوبارہ انتہائی تیز رفتاری سے ہدف کی طرف واپس آتا ہے، جس کی وجہ سے فضائی دفاعی نظاموں کے لیے اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس میزائل کا استعمال ایک فوجی آپریشن کے دوران کیا گیا جسے اسرائیل نے "آپریشن ایپک فیوری" کا نام دیا تھا۔ اس حملے میں خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا جس میں ان کے کئی اعلیٰ معاونین بھی مارے گئے۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ میزائل کا ملبہ دور دراز علاقوں سے برآمد ہوا۔ معلومات کے مطابق ایرانی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے سات بجے اسرائیلی ایف-15 لڑاکا طیاروں نے دیگر طیاروں کے ہمراہ پرواز بھری اور کمپاؤنڈ کے اندر موجود اہداف پر تقریباً 30 میزائل داغے، جن میں "بلو اسپیرو" بھی شامل تھے۔ طیاروں کی روانگی کے تقریباً دو گھنٹے بعد ان میزائلوں نے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا۔ یہ میزائل اپنی تیز رفتاری اور پیچیدہ راستے کی وجہ سے روایتی دفاعی نظاموں کو چکمہ دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، اور مانا جاتا ہے کہ اسرائیل نے اسے 2024 میں ایران پر ہونے والے حملوں کے دوران بھی استعمال کیا تھا۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل کی ایک فوجی چال کے بعد کیا گیا، جہاں حملے سے ایک روز قبل (جمعہ کو) فوجی حکام نے یہ تاثر دیا کہ فوج ہفتہ وار تعطیل کے دوران اپنی سرگرمیاں کم کر دے گی۔ اسرائیلی فوج کے ایک عہدے دار نے بتایا کہ جان بوجھ کر ایسی تصاویر اور معلومات نشر کی گئیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ فوجی کمانڈر ہفتہ کی شام کے کھانے (یہودی سبت) کے لیے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ حملے سے چند گھنٹے قبل فوجی کمانڈر آپریشن رومز میں واپس پہنچ گئے، جہاں امریکہ کے ساتھ مل کر ان حملوں کی براہِ راست (ریئل ٹائم) ہم آہنگی کی گئی اور ایرانی رد عمل کے مطابق مسلسل تبدیلیاں لائی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج نے خامنہ ای کے ہیڈ کوارٹر کے قریب تقریباً 10 سیلولر کمیونیکیشن اسٹیشنز کو بیک وقت معطل کر دیا تاکہ حفاظتی گارڈز کو کوئی پیشگی وارننگ نہ مل سکے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کا وقت پہلے رات کے لیے طے تھا، لیکن اسے ہفتے کی صبح میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ اس میٹنگ کا فائدہ اٹھایا جا سکے جس میں متعدد اعلیٰ ایرانی حکام کمپاؤنڈ میں موجود تھے۔ فوجی حکام کے مطابق یہ حملہ ان خدشات کے پیش نظر کیا گیا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام زمین کے اندر مزید گہری تنصیبات میں منتقل کر رہا ہے جہاں انہیں روایتی طریقوں سے تباہ کرنا مشکل ہے، جبکہ ایران کی بیلسٹک میزائلوں کی پیداوار میں بھی تیزی آ گئی تھی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ