Akhbar-e-Mashriq

Akhbar-e-Mashriq

Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

کینیا: 190 بچوں کو بھوکا مار کر لاشیں جنگل میں دفنانے والے مذہبی پیشوا کو 200 سال قید کی سزا

Admin
By Admin
Nov 06, 2026
Listen to Article Audio Narration
Loading narration audio... Playing • Tap to pause Tap play to listen to this story

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

کینیا: 190 بچوں کو بھوکا مار کر لاشیں جنگل میں دفنانے والے مذہبی پیشوا کو 200 سال قید کی سزا
کینیا: 190 بچوں کو بھوکا مار کر لاشیں جنگل میں دفنانے والے مذہبی پیشوا کو 200 سال قید کی سزا — November 06, 2026
کینیا کی عدالت نے مذہبی فرقے کے سربراہ پال میکنزی کو 190 بچوں کے قتل کے جرم میں مجموعی طور پر 200 سال قید کی سزا سنا دی۔

بچوں کو مبینہ طور پر اس کے حکم پر بھوکا رکھ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا اور لاشیں جنگل میں دفن کردی گئی تھیں۔ اس واقعے میں مجموعی طور پر تقریباً 500 افراد کی ہلاکت کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جسٹس ڈیانا کاویدزا نے جمعے کو فیصلہ سناتے ہوئے بتایا کہ پال میکنزی کو بھوکا رکھ کر قتل کرنے کے جرم میں 100 سال اور براہ راست قتل کے جرم میں مزید 100 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔

استغاثہ کے مطابق پال میکنزی مشرقی کینیا کے ساحلی علاقے میں واقع ایک جنگل کے قریب قیامت سے متعلق عقائد پر مبنی مسیحی فرقہ چلاتا تھا۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت دی تھی کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے جنت میں داخل ہونے کے لیے خود کو اور اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر موت کے حوالے کردیں۔

اس کے ساتھیوں نے بھی احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے متاثرین کو دھمکیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعدازاں جنگل میں کمزور اور لاغر لاشیں اتھلی قبروں اور بیت الخلا کے گڑھوں سے برآمد ہوئیں، جبکہ بعض افراد کو زندہ دفن کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔

عدالت میں پیشی کے دوران پال میکنزی نے قتل کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے کسی کو بھوکا رہنے پر مجبور نہیں کیا، تاہم عدالت نے اس کا دفاع مسترد کردیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اپریل 2023 میں اس وقت سامنے آیا جب پولیس نے ساحلی قصبے مالندی کے قریب شاکاہولا جنگل سے لاشیں برآمد کرنا شروع کیں۔

مقدمے میں 190 بچوں اور ایک بالغ شخص کی ہلاکتوں کا احاطہ کیا گیا، تاہم کینیا کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق جنگل سے مجموعی طور پر 448 لاشیں مل چکی ہیں۔

پال میکنزی پر ایک دوسرے گاؤں میں 30 کلومیٹر دور 52 افراد کی ہلاکت کا حکم دینے کا الزام بھی ہے۔ اس مقدمے میں اس نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔ ان ہلاکتوں کو شامل کیا جائے تو مشتبہ متاثرین کی تعداد 500 تک پہنچ جاتی ہے۔

پال میکنزی کے حکم پر ہلاک ہونے والے 6 بچوں کے والد 48 سالہ اسٹیفن موئیتی نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کی اہلیہ بچوں کو شاکاہولا جنگل لے گئی تھیں، جہاں انہیں بھوکا رکھ کر مار دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بالغ افراد نے اپنی مرضی سے روزہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا تو بچوں کا کیا قصور تھا؟

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو کسی صورت واپس نہیں لاسکتے، چاہے میکنزی اور اس کے ساتھیوں کو کتنی ہی سخت سزا کیوں نہ مل جائے۔

پال میکنزی کے بیٹے ڈین میکنزی نے بھی کہا کہ ان کے والد نے اپنے خاندان کو بھی نہیں بخشا۔ ان کے مطابق وہ خود اس لیے بچ گئے کیونکہ انہوں نے جنت میں جانے سے متعلق اپنے والد کے عقائد پر یقین کرنا چھوڑ دیا تھا اور فرقہ چھوڑ دیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پال میکنزی 2017 سے حکام کی نظروں میں تھا، جب پولیس نے اس کے ٹھکانوں کی تلاشی لی تھی۔ 2019 میں حکام نے مالندی میں اس کا چرچ بند کردیا، جس کے بعد اس نے قریبی شاکاہولا جنگل میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

واقعے کے بعد مذہبی گروہوں کی نگرانی سخت کرنے کے مطالبات سامنے آئے۔ صدر ولیم روٹو نے مئی 2023 میں ایک ٹاسک فورس قائم کی تھی، جسے مذہبی اداروں سے متعلق قانونی اور انتظامی ضوابط کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی۔ 2024 میں حکومت اور سینیٹ کی جانب سے بھی تجاویز پیش کی گئیں، تاہم انہیں تاحال قانون کی شکل نہیں دی جاسکی۔

واضح رہے کہ کینیا کے صدر ولیم روٹو نے 2023 میں ان ہلاکتوں کو روکنے میں حکومتی ناکامی کی ذمہ داری بطور صدر قبول کی تھی۔

کینیا کی عدالت نے مذہبی فرقے کے سربراہ پال میکنزی کو 190 بچوں کے قتل کے جرم میں مجموعی طور پر 200 سال قید کی سزا سنا دی۔...

Source: Admin
Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn