International

قاہرہ کتاب میلہ میں مصنوعی ذہانت سے لکھی گئی ناولوں پر ہنگامہ

قاہرہ کتاب میلہ میں مصنوعی ذہانت سے لکھی گئی ناولوں پر ہنگامہ

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک متنازع واقعے نے خاصی ہلچل مچا دی، جس کا تعلق قاہرہ کے بین الاقوامی کتاب میلے 2026 میں مصنوعی ذہانت سے لکھی گئی ناولوں کی مبینہ موجودگی سے ہے۔ سوشل میڈیا کے بعض صارفین نے دعویٰ کیا کہ میلے میں ایسے ناول پیش کیے گئے جو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کی تکنیک سے تحریر کیے گئے تھے۔ اس معاملے میں حیران کن پہلو اس وقت سامنے آیا جب قارئین نے ان کتابوں میں خام اور غیر شائستہ متن دریافت کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنفین نے ان کی جانچ یا تدوین نہیں کی، یوں تحریر میں مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ جملے جوں کے توں شامل ہو گئے۔ صارفین نے ان ناولوں میں سے ایک کا اقتباس بھی شیئر کیا، جہاں مصنف متن کا جائزہ لینا بھول گیا تھا اور اس کی یہ ''بڑی لغزش'' سب کے سامنے آ گئی۔ محمد رشاد صدر اتحادِ ناشرینِ عرب کا کہنا ہے کہ قاہرہ کتاب میلے میں بعض ناولوں کا مصنوعی ذہانت کی تکنیک سے تیار ہونا ایک ممکنہ بات ہے۔ بلکہ انہوں نے تصدیق کی کہ ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق 2022 میں انگلینڈ میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایک مکمل ناول تیار کیا گیا تھا اور اس وقت اس پر کسی قسم کے قانونی اعتراضات سامنے نہیں آئے تھے۔ رشاد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ناولوں کے سرورق کے ڈیزائن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال قابلِ قبول اور متوقع ہے، خصوصاً ڈیجیٹل ڈیزائن کے جدید ٹولز میں تیز رفتار ترقی کے باعث۔ ان کے مطابق یہ عمل بذاتِ خود اشاعتی صنعت کے لیے کوئی بحران نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خود ناول کا متن بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا جا سکتا ہے یا اس کی تیاری میں اس سے مدد لی جا سکتی ہے اور یہ معاملہ اب ثقافتی حلقوں میں سنجیدگی سے زیرِ بحث ہے۔ تاہم اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب مواد کسی سابقہ ادبی تخلیق یا مصنف کے کام سے نقل یا اقتباس کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ دانشورانہ املاک (انٹلیکچوئل پراپرٹی) کے حقوق کے دائرے میں آتا ہے اور کسی صورت اس کی خلاف ورزی جائز نہیں۔ اسی تناظر میں صدر اتحادِ ناشرینِ عرب نے زور دیا کہ اس معاملے میں حتمی معیار اصل مصنفین کے حقوق کا احترام ہے، چاہے ادبی تخلیق روایتی طریقے سے کی گئی ہو یا مصنوعی ذہانت کے آلات کی مدد سے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ادبی کام جس کے بارے میں ثابت ہو جائے کہ اسے قانونی اجازت کے بغیر کسی دوسری تحریر سے نقل یا نقلِ جزوی کیا گیا ہے، ایک واضح خلاف ورزی ہے اور اس پر جواب دہی لازم ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments