International

کابینہ وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے ’ گھنٹہ‘ والے بیان کا سرکاری حکم میں ذکر کرنا مہنگا پڑگیا، دیواس کے ایس ڈی ایم معطل

کابینہ وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے ’ گھنٹہ‘ والے بیان کا سرکاری حکم میں ذکر کرنا مہنگا پڑگیا، دیواس کے ایس ڈی ایم معطل

مدھیہ پردیش میں دیواس کے ایس ڈی ایم کی اس وقت مشکلیں بڑھ گئیں جب ان کے ذریعہ جاری ایک سرکاری حکم سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ اس حکم میں ریاستی کابینہ کے وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے متنازع ’ گھنٹہ‘ والے بیان کا ذکر کیا گیا تھا۔ خط کے سامنے آتے ہی انتطامیہ نے سخت موقف اختیار کیا اور دیواس کے ایس ڈی ایم آنند مالویہ کو فوری اثر سےمعطل کر دیا۔ اس کارروائی کاحکم اجین کے ڈویژنل کمشنر آشیش سنگھ نے جاری کیا۔ وہیں معاملے میں کردار سامنے آنے کے بعد ایس ڈی ایم آفس میں تعینات اسسٹنٹ گریڈ- 3 امیت چوہان کو بھی دیواس کلکٹر رتوراج سنگھ نےمعطل کردیا ہے۔ انتظامی ردوبدل کرتے ہوئے ابھیشیک شرما کو دیواس کا نیا ایس ڈی ایم مقرر کیا گیا ہے۔ خبروں کے مطابق اندور میں آلودہ پینے کے پانی سے پھیلنے والی بیماری اور اس سے ہوئی اموات کو لے کر ریاست کی سیاست میں پہلے سے ہی طوفان مچا ہوا ہے۔ اسی دوران صحافیوں کے سوالات پر کابینہ وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے ذریعہ ’گھنٹہ‘ لفظ کے استعمال نے تنازع کو مزید ہوا دے دی۔ کانگریس پارٹی نے ریاستی وزیر کے متنازع بیان کو غیر حساس قرار دیتے ہوئے ریاست بھر میں دھرنے اور مظاہرے شروع کردیئے۔ اس کشیدہ سیاسی ماحول کے درمیان دیواس میں کانگریس کے مجوزہ احتجاج کے پیش نظر نظم و نسق برقرار رکھنے کے لئے ایس ڈی ایم آنند مالویہ نے سرکاری حکم جاری کیا۔ اس حکم کا مقصد امن و امان کو یقینی بنانا تھا لیکن اس کی زبان اور مواد نے پوری انتظامیہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ وائرل ہوئے حکم میں نہ صرف انتظامی ہدایات شامل تھیں بلکہ اس میں کانگریس کے میمورنڈم میں لگائے گئے حکومت مخالف الزامات، متوفیوں کی تعداد اور وزیر کیلاش وجے ورگیہ کے ’گھنٹہ‘ تبصرے کا بھی براہ راست ذکر کیا گیا تھا۔ عام طور پر اس طرح کے احکامات میں صرف پولیس فورس کی تعیناتی، حکم امتناعی اورنظم ونسق کے بارے میں ہدایات ہوتی ہیں لیکن اس حکم میں سیاسی زبان اور الزامات شامل ہونے سے ایس ڈی ایم کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ ’آج تک‘ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حکم کا ایک حصہ کانگریس پارٹی کے ذریعہ پیش کردہ میمورنڈم سے تقریبا لفظی طور پر لیا گیا تھا۔ یہی بات حکومتی سطح پر سب سے زیادہ قابل اعتراض قرار دی گئی۔ افسران کا خیال تھا کہ کسی بھی سرکاری دستاویز میں سیاسی الزامات یا بیانات کو شامل کرنا ضابطہ کے خلاف ہے۔ جیسے ہی یہ حکم سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، اپوزیشن نے اسے انتظامی سیاست سے تعبیر کیا۔ دریں اثنا حکمراں کیمپ میں بھی اس پر بے چینی صاف نظر آئی۔ حکم وائرل ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی معاملہ بھوپال تک پہنچ گیا۔ ’آج تک‘ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں اعلیٰ سطحی رپورٹ طلب کی گئی اور پورے معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد اجین کے ڈویژنل کمشنر آشیش سنگھ نے معاملے کو سنگین مانتے ہوئے ایس ڈی ایم آنند مالویہ کومعطل کرنے کا حکم جاری کردیا۔ داخلی تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ایس ڈی ایم آفس میں تعینات اسسٹنٹ گریڈ 3 امیت چوہان نے سرکاری حکم کے مسودے اور ٹائپنگ کےعمل میں کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد دیواس کلکٹر رتوراج سنگھ نے امیت چوہان کو بھی معطل کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے ذریعے انتظامیہ نے واضح پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ سرکاری احکامات میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی، سیاسی زبان یا الزامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ معطلی کے فوراً بعد ابھیشیک شرما کو دیواس کا نیا ایس ڈی ایم مقرر کیا گیا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد نئے ایس ڈی ایم نے افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور واضح کیا کہ آئندہ تمام احکامات پوری طرح قواعد اورخالص انتظامی زبان میں ہی جاری کئے جائیں گے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments