Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata ♦ Delhi ♦ Ranchi ♦ Lucknow ♦ Bhopal ♦ Srinagar ♦ Siliguri ♦ Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS
International

اسرائیلی عدلیہ کا متنازعہ آبادکاری منصوبے کے ٹینڈر انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنے کا حکم

Admin
By Admin
Sep 28, 2026

Your Reaction

{{ voteMessage }}

{{ currentVoteCount }} Responses

Trending Video

KOLKATA KI GERUA SAMMAN YATRA SUVENDU ADHIKARI KA SAKHT ANDAZAZ

اسرائیلی عدلیہ کا متنازعہ آبادکاری منصوبے کے ٹینڈر انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنے کا حکم
اسرائیلی عدلیہ کا متنازعہ آبادکاری منصوبے کے ٹینڈر انتخابات کے بعد تک ملتوی کرنے کا حکم — September 28, 2026
اسرائیلی اٹارنی جنرل نے فیصلہ دیا ہے کہ انتہائی متنازعہ "ای ون" (E1) پروجیکٹ کے تحت تعمیراتی پیشکشیں (ٹینڈرز)طلب کرنے کی آخری تاریخ کو انتخابات کے بعد تک کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔ اس منصوبے سے مقبوضہ مغربی کنارے کا شمالی حصہ جنوبی حصے سے کٹ جانے کا خطرہ ہے۔

اٹارنی جنرل گالی بہراف-میارا کی ترجمان نے بتایا کہ "اٹارنی جنرل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ تجاویز جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی تاخیر کر کے اسے انتخابات کے بعد لے جائیں تاکہ اس بات کے خدشات کو کم کیا جا سکے کہ اس ٹینڈر کو انتخابی پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جو کہ ممنوع ہے،" ان کا اشارہ 27 اکتوبر کو ہونے والے آئندہ پارلیمانی انتخابات کی طرف تھا۔

اس منصوبے کا مقصد "معالیہ ادومیم" بستی کو یروشلم کے ساتھ جوڑنا اور شہر کو اس کے فلسطینی ماحول سے الگ کرنا ہے، جو کہ "گریٹر یروشلم" کے نام سے مشہور ایک وسیع تر اسرائیلی منصوبے کا حصہ ہے۔

"E1" کے اس منصوبے کی جڑیں سنہ 1991ء تک جاتی ہیں جب اسے پہلی بار اسحاق شامیر کی حکومت نے پیش کیا تھا، لیکن اسے عملی جامہ پہنانے کی اصل کوششیں نوے کی دہائی کے وسط میں اسحاق رابین کی حکومت کے دور میں کی گئیں، جنہوں نے اسے زمینی حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی۔

تاہم امریکی دباؤ کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا اور رابین کو اس منصوبے کو معطل کرنے پڑا، یہ امریکی مؤقف آنے والی دہائیوں تک برقرار رہا۔ تب سے لے کر اب تک اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کی اسرائیلی کوششیں بار بار کی گئی ہیں، جن میں سے سب سے نمایاں کوشش سنہ 2004ء میں ارئیل شیرون کے دورِ حکومت میں کی گئی تھی، لیکن اس کی مخالفت صرف واشنگٹن تک محدود نہیں رہی بلکہ یورپی یونین تک پھیل گئی، موجودہ اعلان تک ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے یہ مخالفت کافی ثابت ہوتی رہی۔

گزشتہ موسمِ گرما میں، سموٹریچ نے "E1" میں تعمیرات کی منظوری کو فلسطینی ریاست کے قیام کے "تابوت میں آخری کیل" قرار دیا تھا۔ اس نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس علاقے کے بغیر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی فلسطینی ریاست کا قیام عملی طور پر ناممکن ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا "جو کوئی بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا چاہتا ہے وہ زمین پر ہمارا ردعمل دیکھے گا، بیانات کی شکل میں نہیں بلکہ یہودی گھروں، سڑکوں اور خاندانوں کی شکل میں جو یہاں اپنی زندگیوں کی تعمیر کر رہے ہیں، ہم ایک ایسا یہودی منظر نامہ تشکیل دے رہے ہیں جو فلسطینی نظریے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دے گا"۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب سنہ 2024ء سے 2025ء کے درمیان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والی بین الاقوامی لہروں کی شکل میں ایک غیر معمولی سفارتی تیزی دیکھنے میں آئی تھی، جب اسپین، آئرلینڈ، ناروے، سلووینیا اور آرمینیا جیسے نمایاں یورپی ممالک نے اس لہر کی قیادت کی اور ستمبر 2025ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اندر ایک اہم پیش رفت ہوئی جب فرانس اور برطانیہ جیسی بڑی مغربی مملکتوں نے کنیڈا، آسٹریلیا، بیلجیم، پرتگال، لکسمبرگ، مالٹا، انڈورا اور موناکو وغیرہ کے ساتھ مل کر اس کی منظوری کا اعلان کیا۔

ادھر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا كالاس نے "E1" کے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دو ریاستی حل کو نقصان پہنچانے کے مترادف قرار دیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ اس پر عمل درآمد سے مقبوضہ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان جغرافیائی تسلسل مستقل طور پر ختم ہو جائے گا اور شمال جنوب سے الگ ہو جائے گا۔

اسرائیلی اٹارنی جنرل نے فیصلہ دیا ہے کہ انتہائی متنازعہ "ای ون" (E1) پروجیکٹ کے تحت تعمیراتی پیشکشیں (ٹینڈرز)طلب کرنے کی آخری تاریخ کو انتخابات کے بعد تک کے لیے ملتوی کر دیا جائے۔ ...

Source: Admin

Related Articles

مزید دیکھیں
Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn