اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیدون ساعر نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسرائیل مشرقی یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کر رہا ہے جسے مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی باضابطہ تسلیم کرتی ہے۔ لندن کی طرف سے اسرائیلی آبادیوں سے آنے والے سامان پر پابندیاں لگانے کا اعلان کرنے کے بعد ان کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔
ساعر نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل میں غزہ کے لیے امریکہ کے زیرِ قیادت رابطہ کاری مشن میں اب برطانیہ کو شرکت کی اجازت نہیں ہو گی، مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کی افواج کے لیے برطانوی تربیت ختم کر دی جائے گی اور برطانیہ کے بعض چُنیدہ عہدیداران اور دیگر شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی ہو گی۔
وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ کی طرف سے پہلے عائد کردہ الزامات کو "اشتعال انگیز جھوٹ" قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "برطانوی اقدام اخلاقی طور پر مسخ شدہ ہے اور یہ ایک خودمختار ریاست کے معاملات اور اس کے انتخابی عمل میں صریح مداخلت ہے"۔
ساعر نے کہا کہ انہوں نے اسرائیل کا ردِ عمل وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو تک پہنچا دیا تھا۔
اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیدون ساعر نے منگل کے روز کہا ہے کہ اسرائیل مشرقی یروشلم میں برطانیہ کا قونصل خانہ بند کر رہا ہے جسے مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی باضابطہ تسلیم کرتی ہے۔ ل...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments