اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں گرفتار کیے جانے والے پانچ لبنانی شہریوں کو رہا کر دے گا کیونکہ مسلح گروہوں کے ساتھ ان کے کسی قسم کے روابط کا ثبوت نہیں ملا ہے۔
آج جمعرات کے روز دفتر نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ گذشتہ صدی کی 1980ء کی دہائی کے وسط میں وہاں اغوا اور قتل کیے جانے والے یہودی برادری کے رہنماؤں کی باقیات کو واپس حاصل کرنے کے لیے لبنان کے ساتھ مذاکرات کے دائرہ کار کے تحت کیا گیا ہے۔
نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے پچھلے چند مہینوں کے دوران باقیات کا پتہ لگانے کی کوششیں کی ہیں جن میں زمین پر ہونے والے آپریشنز بھی شامل ہیں۔
ایک لبنانی سکیورٹی ذریعے اور اسیران کمیٹی کے ایک ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ اسرائیل نے دراصل پانچ میں سے ایک شخص کو رہا کر دیا ہے جو کہ مالک کمال غازی ہیں۔ انھیں اکتوبر 2025 میں حراست میں لیا گیا تھا اور ریڈ کراس نے الناقوره کے مقام پر انھیں لبنانی حکام کے حوالے کر دیا۔
دونوں ذرائع نے ان اطلاعات کی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ غازی حزب اللہ کا رکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہائی کے لیے مقرر کردہ دیگر چار افراد بھی سکیورٹی عملہ نہیں بلکہ عام شہری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پینتیس لبنانی اب بھی اسرائیل میں قید ہیں جن میں بیس عام شہری شامل ہیں۔
اسرائیل اور لبنان نے جون میں امریکہ کی ثالثی میں ایک فریم ورک کے سمجھوتے پر دستخط کیے تھے جس میں قیدیوں کی رہائی اور باقیات کی تلاش اور واپسی کے لیے کام کرنے کا عزم شامل تھا۔
سمجھوتے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لبنان کی فوج کے وہاں کنٹرول سنبھالنے اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ اسرائیل بالآخر جنوبی لبنان سے انخلا کرے گا، یہ وہ شرائط ہیں جنہیں حزب اللہ نے مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ اسرائیل جنوبی لبنان میں گرفتار کیے جانے والے پانچ لبنانی شہریوں کو رہا کر دے گا کیونکہ مسلح گروہوں کے ساتھ ان کے کسی قسم کے...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments