کولکتہ/باراسات:
بی جے پی کے مغربی بنگال ریاستی صدر شمیک بھٹاچاریہ نے ریاست میں غیر قانونی گھس پیٹھ کو "ریڈیکل ایگریشن" (شديد جارحیت) اور "سائلنٹ ڈیموگرافک انویژن" (خاموش آبادیاتی یلغار) قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ باراسات-ٹاکی روڈ کے شمل تلا میں چکلا اور کچوا دھام کے زائرین کے لیے منعقدہ ایک امدادی کیمپ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ معاملہ صرف آبادی کے تناسب کا نہیں بلکہ براہِ راست قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔
صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے شمیک بھٹاچاریہ نے سنگین الزامات عائد کیے.
فرضی دستاویزات کا گڑھ: انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ علاقہ جعلی آندھار کارڈ اور جعلی پین کارڈ تیار کرنے کا اہم حب بن چکا ہے۔
دہشت گردوں کی آمدورفت: سرحدی اضلاع کو بطور کوریڈور استعمال کر کے دہشت گرد تنظیموں کے اراکین ریاست کے مختلف حصوں میں داخل ہو رہے ہیں اور مستقل ٹھکانے بنا رہے ہیں۔
بغیر جنگ کے قبضے کی سازش: ان کا کہنا تھا کہ 1980ء کی دہائی سے اس آبادیاتی تبدیلی کا عمل جاری ہے اور "بغیر کسی جنگ کے ہندوستان پر قبضہ کرنے کی ایک گہری سازش چل رہی ہے"، جسے ہر قیمت پر روکا جانا چاہیے۔
بنگلہ دیش کے حالات اور اقلیتوں پر حملے:
شمیک بھٹاچاریہ نے بنگلہ دیش میں مندروں، اسکان اور بنگالی ثقافتی ورثے پر ہونے والے مبینہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپیل کی کہ تمام لوگوں کو اپنے وجود اور تاریخ کی حفاظت کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔
وقف جائیدادوں پر ترنمول کانگریس پر شدید تنقید:
وقف قانون کے معاملے پر ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی کے دورِ حکومت میں وقف جائیدادوں کی لوٹ مار نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انہوں نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کے نام پر تشدد اور جائیدادوں کو نقصان پہنچانے کے اقدامات کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
بی جے پی کے مغربی بنگال ریاستی صدر شمیک بھٹاچاریہ نے ریاست میں غیر قانونی گھس پیٹھ کو "ریڈیکل ایگریشن" (شديد جارحیت) اور "سائلنٹ ڈیموگرافک انویژن" (خاموش آبادیاتی یلغار) قرار دیتے ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments