Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

International

حزب اللہ جنگجوؤں سے میرا رابطہ ہے، باقر قالیباف کا اعتراف

حزب اللہ جنگجوؤں سے میرا رابطہ ہے، باقر قالیباف کا اعتراف

تہران (16 اگست 2026): ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف نے لبنان میں حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ اپنا مسلسل رابطہ قائم رہنے کا اعتراف کیا ہے۔

قاليباف نے ہفتے کے روز ایرانی دانش وروں کے ساتھ ایک اجلاس کے دوران کہا کہ وہ 1985 سے لبنان سے متعلق امور سے منسلک ہیں۔ انھوں نے حزب اللہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’لبنان کے ہر شہید کے ساتھ میری قریبی دوستی اور تعلق تھا اور میں آج بھی لبنان میں فرنٹ لائنز پر موجود جنگجوؤں سے رابطے میں ہوں۔‘‘

قالیباف نے واضح کیا کہ امریکا ایران سے اپنے میزائل اور ایٹمی پروگرام نیز ’’مزاحمتی محاذ‘‘ اور آبنائے ہرمز سے دست بردار ہونے کا مطالبہ کر رہا تھا، لیکن ایران کی جانب سے مزاحمت اور لبنان کو امریکا کے ساتھ ایم او یو کی پہلی شق میں شامل کیا گیا تھا۔

قاليباف کا یہ بیان بیروت اور تہران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ کشیدگی چند ماہ پہلے لبنان میں ایرانی کردار کے معاملے پر پیدا ہوئی تھی۔ لبنانی حکومت نے اسلحہ صرف ریاست کے پاس رکھنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ اس نے حزب اللہ کو بھی ریاستی فیصلوں کا پابند بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

لبنانی صدر جوزف عون نے گزشتہ بیانات میں لبنانی امور میں ایرانی مداخلت کو مسترد کرنے پر زور دیا تھا، اور تہران پر امریکا کے ساتھ اپنے مذاکرات میں لبنان کو کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا، جون میں سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا ’’یہ آپ کا ملک نہیں ہے، یہ ہمارا ملک ہے اور ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

{{ currentVoteCount }} Responses
{{ voteMessage }}
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in International

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn