امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے کی یقین دہانی کے باوجود ایک دوسرا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز مشرق وسطیٰ میں تعیناتی کے لیے تیار ہے۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگان نے دوسرے طیارہ بردار بحری بیڑے (اسٹرائیک گروپ) کو مشرق وسطیٰ میں تعیناتی کے لیے تیار رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں، جبکہ امریکی افواج ایران پر ممکنہ حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ خبر "وال اسٹریٹ جرنل" نے شائع کی ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک دوسرے بیڑے کی تعیناتی کا با ضابطہ حکم جاری نہیں کیا ہے، اور ان منصوبوں میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔ ایک اہل کار کے مطابق پینٹاگان دو ہفتوں کے اندر ایک طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، جو ممکنہ طور پر امریکہ کے مشرقی ساحل سے روانہ ہو کر خطے میں پہلے سے موجود "یو ایس ایس ابراہم لنکن" کے ساتھ شامل ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش" ورجینیا کے ساحل پر اپنی مشقیں مکمل کر رہا ہے، لیکن ان مشقوں کو وقت سے پہلے ختم کر کے اسے روانہ کیا جا سکتا ہے۔امریکی بحریہ کے ایک اہل کار کے مطابق یہ بحری جہاز الیکٹرونک حملے کرنے والے طیارے، جاسوس طیارے اور ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کے بحری ورژن سمیت دیگر جنگی طیارے لانچ کرنے اور واپس اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ امکانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ایران سے مذاکرات کے معاملے پر ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ وہ ایرانی فریق کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ تین گھنٹے جاری رہنے والی ملاقات کے بعد انہوں نے اپنے پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر لکھا "میں نے اس بات پر اصرار کیا کہ تہران کے ساتھ مذاکرات جاری رہیں تاکہ دیکھا جا سکے کہ کیا کوئی معاہدہ ممکن ہے... اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو میں نے نیتن یاہو کو بتا دیا ہے کہ یہ میرا پسندیدہ انتخاب ہوگا۔ اور اگر ہم کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے، تو پھر دیکھیں گے کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔" امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں خطے میں اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا ہے، جہاں بحیرہ جنوبی چین سے "یو ایس ایس ابراہم لنکن" کے علاوہ مزید جنگی جہاز، فضائی دفاعی نظام اور لڑاکا طیاروں کے اسکواڈرن بھیجے گئے ہیں۔ اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار فوجی آپشن کی دھمکی دی ہے، لیکن انہوں نے گزشتہ ہفتے سلطنت عمان میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو "بہت اچھا" قرار دیا اور جوہری معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمت کے امکان کی طرف اشارہ بھی کیا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ