International

حماس آخری اسرائیلی قیدی کی لاش کی تلاش میں تعاون کے لیے تیار

حماس آخری اسرائیلی قیدی کی لاش کی تلاش میں تعاون کے لیے تیار

حماس کے سرکاری ترجمان حازم قاسم نے آج بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ تحریک آخری اسرائیلی قیدی کی لاش کی تلاش کے لیے کسی بھی ایسی کوشش میں ثالثوں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، جیسا کہ فلسطینی انفارمیشن سینٹر نے رپورٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک نے آخری اسرائیلی اسیر کی لاش سے متعلق اپنی تمام دستیاب معلومات فراہم کر دی ہیں اور اس کی تلاش کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کے ساتھ مثبت رویہ اختیار کیا ہے۔ قاسم نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اس نے بارہا زرد لائن کے پیچھے واقع علاقوں میں لاش کی تلاش کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ،اس کے ساتھ وضاحت کی کہ حماس نے آخری اسیر کی لاش تک پہنچنے کے لیے فلسطینی دھڑوں کے ساتھ اپنی کوششوں سے ثالثوں کو براہِ راست آگاہ رکھا ہے۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جان بوجھ کر لاش نہ ملنے کے معاملے کو پہلے مرحلے کی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی سرپرستی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت، جو 10 اکتوبر 2025 کو نافذ العمل ہوا، حماس نے آخری 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کیا، جبکہ اب تک 28 میں سے 27 فوت شدہ اسرائیلی قیدیوں کی باقیات بھی حوالے کر دی گئی ہیں۔تمام لاشیں واپس کی جا چکی ہیں سوائے 24 سالہ اسرائیلی ران گفیلی کی لاش کے جو نقب کے علاقے میں خصوصی گشتی یونٹ (یاسام) کا رکن تھا۔ اسرائیل نے فلسطینی دھڑوں پر لاش کی حوالگی میں تاخیر کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم حماس کا کہنا ہے کہ دو برس کی تباہ کن جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بھاری ملبے کے باعث لاشوں کی تلاش کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ ران گفیلی سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر کیے گئے حملے میں ہلاک ہوا تھا، جس کے بعد جنگ کا آغاز ہوا اور اس کی لاش اس وقت غزہ کے اندر منتقل کر دی گئی تھی۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments