امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) سائبر کرائم میں ملوث ایک گروپ کے اس دعوے کی تحقیقات کر رہا ہے کہ اس نے ادارے کے تقریباً 38,000 ملازمین کی حساس معلومات چوری کر لی ہیں۔
ہیکرز کے گروپ شائنی ہنٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس ایف بی آئی کے تمام اہلکاروں کے نام، عہدوں، بیج نمبر، گھروں کے پتے، فون نمبرز اور پارٹنرز کی تفصیلات سمیت دیگر معلومات موجود ہیں۔
برطانیہ کے نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر (این سی ایس سی) کے سابق سربراہ پروفیسر کیاران مارٹن نے کہا کہ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو ’ڈیٹا لیک کے حوالے سے یہ ممکنہ طور پر انتہائی سنگین نوعیت کے واقعات میں سے ایک ہوگا۔‘
ایکس پر جاری ایک بیان میں ایف بی آئی نے کہا کہ وہ اس دعوے سے آگاہ ہے اور ادارہ ’اس معاملے کی بھرپور انداز میں تحقیقات کر رہا ہے۔‘
ہیکرز کا کہنا ہے کہ انھوں نے پیر کی رات ایف بی آئی کے سرورز میں دراندازی کی اور منگل کو صحافیوں سے رابطہ کر کے مبینہ طور پر چوری شدہ معلومات کے نمونے اور سکرین شاٹس بھی شیئر کیے۔
بی بی سی نے مبینہ ڈیٹا کے ایک محدود حصے کا جائزہ لیا ہے، جو بظاہر حقیقی معلوم ہوتا ہے، اگرچہ اس کی مکمل تصدیق ابھی نہیں ہو سکی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مبینہ طور پر لیک ہونے والے بعض ریکارڈز میں ایف بی آئی اہلکاروں کی ڈیوٹیوں اور تعیناتیوں سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں، جن میں چینی جاسوسی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں، روسی انٹیلی جنس سرگرمیوں کی نگرانی اور منشیات فروش کارٹیلز کے خلاف تحقیقات جیسے حساس شعبے شامل ہیں۔
شائنی ہنٹرز ایک بین الاقوامی ہیکر گروپ سمجھا جاتا ہے، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کی ابتدا فرانس سے ہوئی تھی۔
امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) سائبر کرائم میں ملوث ایک گروپ کے اس دعوے کی تحقیقات کر رہا ہے کہ اس نے ادارے کے تقریباً 38,000 ملازمین کی حساس معلومات چوری کر لی ہ...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments