International

جیفری ایپسٹین کی اسٹیٹ کا متاثرین کو ساڑھے 3 کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے پر اتفاق

جیفری ایپسٹین کی اسٹیٹ کا متاثرین کو ساڑھے 3 کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے پر اتفاق

بدنامِ زمانہ امریکی سرمایہ کار اور جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی اسٹیٹ نے متاثرین کی جانب سے دائر اجتماعی مقدمے کو نمٹانے کے لیے 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (تقریباً 35 ملین ڈالر) ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، متاثرین کے وکلاء نے موقف اختیار کیا تھا کہ جیفری ایپسٹین کے دو قریبی مشیروں نے کم عمر لڑکیوں اور نوجوان خواتین کی مبینہ جنسی اسمگلنگ میں نہ صرف معاونت کی بلکہ اس گھناؤنے فعل کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ متاثرین کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے وفاقی عدالت میں اس تصفیے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران اس معاہدے کو متاثرین کے دعوؤں کے ازالے اور انہیں انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین پر جنسی اسمگلنگ اور کم عمر لڑکیوں کے استحصال کے سنگین الزامات تھے، تاہم مقدمے کی سماعت کے دوران ہی انہوں نے جیل میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی، جس کے بعد سے ان کی جائیداد (اسٹیٹ) کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ جاری ہے۔ جیفری ایپسٹین ایک امریکی کروڑ پتی سرمایہ کار تھا جس کے تعلقات دنیا کی طاقتور ترین شخصیات، سیاستدانوں اور شاہی خاندانوں کے ارکان کے ساتھ تھے۔ ان پر دہائیوں تک کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ اور ان کے استحصال کا ایک وسیع نیٹ ورک چلانے کا الزام تھا۔ ایپسٹین کو 2019 میں وفاقی الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم، مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی اگست 2019 میں وہ نیویارک کی ایک جیل میں مردہ پائے گئے۔ حکام نے اسے خودکشی قرار دیا، لیکن ان کی موت کے حوالے سے آج بھی کئی شکوک و شبہات اور نظریات گردش کرتے ہیں۔ ایپسٹین کی موت کے بعد بھی قانونی کارروائی ختم نہیں ہوئی۔ ان کی قریبی دوست غزلین میکسویل کو 2021 میں لڑکیوں کی اسمگلنگ میں مدد کرنے کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ حالیہ تصفیہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں ان کے مشیروں پر الزام تھا کہ انہوں نے اس مجرمانہ نظام کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔ اس کیس کی تحقیقات کے دوران کئی اہم نام سامنے آئے، جن میں سابق امریکی صدور، برطانوی شاہی خاندان کے شہزادہ اینڈریو اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے بڑے نام شامل تھے۔ شہزادہ اینڈریو نے بھی ایک متاثرہ خاتون کے ساتھ عدالتی تصفیہ کیا تھا جس کے بعد انہیں اپنے شاہی القابات سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ ایپسٹین کی وفات کے بعد ان کی جائیداد کی مالیت کروڑوں ڈالرز لگائی گئی تھی۔ عدالتوں کا مقصد اس جائیداد کو استعمال کرتے ہوئے ان تمام خواتین کو ہرجانہ ادا کرنا ہے جو اس نیٹ ورک کا شکار ہوئیں، تاکہ کسی حد تک ان کی تلافی کی جا سکے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments