گرین لینڈ کے معاملے نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تجارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد یورپی ملکوں پر کسٹم ڈیوٹی (ٹیرف) لگانے کا اعلان کیا تو اس قدم کو مسترد کر دیا گیا اور یورپ نے جوابی اقدامات کی وارننگ دے دی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اگلے سال سے متعدد یورپی ملکوں پر کسٹم ڈیوٹی لگائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات گرین لینڈ کی خریداری کا معاہدہ طے پانے تک جاری رہیں گے۔ اس خریداری کی وجہ انہوں نے امریکی اور عالمی قومی سلامتی کو درپیش خطرات بتائے۔ ہفتے کے روز ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘پر ایک ٹویٹ میں ٹرمپ نے واضح کیا کہ واشنگٹن نے ڈنمارک، تمام یورپی یونین اور دیگر ملکوں کی کئی سالوں تک ڈیوٹی یا معاوضے کی کسی بھی شکل کے بغیر حمایت کی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس کا بدلہ چکائیں کیونکہ عالمی امن داؤ پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین اور روس گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ڈنمارک اسے روکنے کے قابل نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف امریکہ ان کی قیادت میں اس معاملے پر ماسکو اور بیجنگ کا مقابلہ کر سکتا ہے ۔ امریکی و عالمی سلامتی کے لیے اس کی اہمیت کے پیش نظر کسی میں گرین لینڈ کو چھونے کی ہمت نہیں ہوگی۔ ٹرمپ نے بات جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، ہالینڈ اور فن لینڈ سمیت کئی ممالک نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ کے دورے کیے ہیں۔ انہوں نے اسے ایک انتہائی خطرناک صورتحال قرار دیا جو دنیا کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ یکم فروری 2026 سے مذکورہ ملکوں سے امریکہ آنے والی تمام اشیاء پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی لگائی جائے گی جسے یکم جون 2026 سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ڈیوٹی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک گرین لینڈ کی مکمل خریداری کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکہ 150 سال سے زائد عرصے سے گرین لینڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جدید دفاعی نظام ’’ گولڈن ڈوم ‘‘ کی وجہ سے اس کی ضرورت انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے ڈنمارک یا کسی بھی متعلقہ ملک کے ساتھ فوری مذاکرات کے لیے واشنگٹن کے آمادہ ہونے کا بھی بتایا۔ دوسری جانب سویڈن کے وزیراعظم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک دھونس میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک ہوم نے کسی بھی قسم کے معاشی یا سیاسی دباؤ کو مسترد کر دیا ہے۔ جرمن حکومت نے بھی اعلان کیا کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ڈیوٹی کے اثرات پر بات چیت کے لیے یورپی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ جرمن حکومت نے زور دیا کہ وہ مشترکہ یورپی ہم آہنگی کے فریم ورک کے تحت ان اقدامات کے جواب میں مناسب فیصلہ کرے گی۔ اسی تناظر میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی صدر کی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی ڈراوا یا دھمکی ہمیں متاثر نہیں کر سکتی، نہ یوکرین میں، نہ گرین لینڈ میں اور نہ ہی دنیا کے کسی اور حصے میں۔ انہوں نے ٹیرف لگانے کی دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی تصدیق ہو گئی تو یورپی ممالک متحد ہوکر مربوط طریقے سے جواب دیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یورپ اپنی خودمختاری کا احترام کروانا جانتا ہے اور اس سلسلے میں وہ یورپی شراکت داروں سے بات چیت کریں گے۔ یاد رہے ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل‘‘ پر کہا تھا کہ امریکہ کو قومی سلامتی کی وجوہات کی بنا پر گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ ہم جو گولڈن ڈوم بنا رہے ہیں اس کے لیے یہ ناگزیر ہے۔ گولڈن ڈوم سے وہ امریکی میزائل اور فضائی دفاعی نظام کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب ٹرمپ نے گرین لینڈ پر کنٹرول کو امریکہ کے بڑے میزائل ڈیفنس شیلڈ پروجیکٹ سے جوڑا ہے۔ کچھ عرصے سے ٹرمپ یہ دہرا رہے ہیں کہ ان کے ملک کو آرکٹک ریجن میں روس اور چین کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور انہوں نے جزیرے پر قبضے کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ