تہران (26 فروری 2026): ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جنیوا میں شروع ہو گیا ہے۔ ایران نے معاہدے کا مجوزہ مسودہ امریکا کو پیش کر دیا، سرکاری خبر ایجنسی ارنا کا کہنا ہے کہ اب امریکا کے پاس مذاکرات سے فرار کا کوئی بہانہ نہیں رہے گا۔ ایک عرب سفارت کار نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ ایران نے جوہری افزودگی 60 فی صد سے کم کر کے 3.6 فی صد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، ایران نے مستقبل میں جوہری افزودگی 7 سال تک معطل رکھنے کی بھی پیشکش کی ہے۔ ایران کی دفاعی کونسل کے سکریٹری علی شمخانی کا کہنا ہے کہ اگر جنیوا مذاکرات کے پیچھے اصل مسئلہ ایران کا جوہری ہتھیار نہ بنانا ہے تو یہ ’’قیادت کے فتوے اور ایران کے دفاعی نظریے‘‘ کے مطابق ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے ملک میں موجود انتہائی افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک منتقل کرنے سے انکار کیا ہے لیکن اسے ایران میں ہی تلف کرنے کی پیش کش کی ہے۔ امریکا ایرانی جوہری پروگرام 10 سال تک معطل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے گزشتہ رات ہی عمان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر دیا تھا۔ مذاکرات سے پہلے عمانی وزیر خارجہ نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر رافیل گروسی سے بھی ملاقات کی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بات ہوئی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ