International

جنوبی افریقہ میں تاریخ کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی دریافت

جنوبی افریقہ میں تاریخ کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی دریافت

دنیا کے قدیم ترین زہریلے تیروں کی شناخت ہو گئی جو 60 ہزار سال پرانے ہیں۔ نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ دریافت قدیم زمانے میں شکار کی تکنیکوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے سائنسدانوں کی ٹیم کے مطابق پتھر کے زمانے کے تیروں کی نوکوں پر جنوبی افریقی پودے "جفبول" ) کے زہر کے آثار ملے ہیں جو دنیا میں دریافت ہونے والا تیروں کا قدیم ترین معلوم زہر ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ 60 ہزار سال قبل جنوبی افریقہ کے باشندوں نے زہریلے مواد اور شکار میں ان کے استعمال کے بارے میں جدید معلومات حاصل کر لی تھیں۔ سائنسدانوں نے یہ دریافت کوازولو ناٹل میں امہلاتوزانا چٹانی پناہ گاہ سے ملنے والے 60 ہزار سال پرانے تیروں کی نوکوں پر کی۔ تحقیقاتی ٹیم نے "جفبول" پودے کے زہر کی کیمیائی باقیات کی شناخت کی ہے۔ یہ ایک زہریلا پودا ہے جسے اس علاقے کے روایتی شکاری اب بھی استعمال کرتے ہیں۔ سٹاک ہوم یونیورسٹی کے پروفیسر اور قدیم اشیاء میں نامیاتی باقیات کے تجزیے کے ماہر سوین اساکسن، جنہوں نے کیمیائی تجزیہ کیا، نے کہا کہ یہ جنوبی افریقہ اور سویڈن کے محققین کے درمیان طویل مدتی اور قریبی تعاون کا ثمر ہے۔ دنیا کے قدیم ترین تیر کے زہر کی مل کر شناخت کرنا ایک پیچیدہ کام تھا جو تحقیق کو جاری رکھنے کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔ جنوبی افریقہ کی جوہانسبرگ یونیورسٹی میں پیلیو بائیولوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی پروفیسر مارلیز لومبارڈ نے کہا کہ یہ انسانوں کی طرف سے تیروں کے زہر کے استعمال کا قدیم ترین براہ راست ثبوت ہے۔ دریافت شدہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی افریقہ میں آباؤ اجداد نے تیر کمان پہلے کے خیال سے کہیں زیادہ پہلے ایجاد کر لیا تھا اور وہ شکار کی کارکردگی بڑھانے کے لیے فطرت کی کیمسٹری کے استعمال کو بھی سمجھتے تھے۔ جریدے ’’ سائنس ایڈوانسز‘‘ میں شائع ہونے والے کیمیائی تجزیے سے ان تیروں پر بوفانیڈرین اور ایپبیوفانیسین الکلائیڈز کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جو دونوں "جفبول" پودے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پودا جسے زہریلا پیاز بھی کہا جاتا ہے، اپنی انتہائی زہریلی خصوصیات کی وجہ سے مقامی شکاریوں میں مشہور ہے۔ اس سے قبل سویڈش مجموعوں میں 250 سال پرانے تیروں کی نوکوں پر بھی اسی طرح کا مواد پایا گیا تھا جنہیں اٹھارویں صدی کے دوران ایک سیاح نے جمع کیا تھا۔ تحقیقاتی ٹیم کے مطابق تاریخی اور ماقبل تاریخ دونوں ادوار میں ایک ہی پودے کے زہر کا استعمال علم اور روایات کے طویل تسلسل کی نشاندہی کرتا ہے۔ پروفیسر اساکسن نے کہا ہے کہ ماقبل تاریخ اور تاریخی دور کے تیروں کی نوکوں پر ایک ہی زہر کے آثار ملنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مواد کی کیمیائی ساخت کا باریک بینی سے مطالعہ کر کے اور ان کی خصوصیات کے بارے میں نتائج اخذ کر کے ہم یہ تعین کرنے میں کامیاب ہوئے کہ یہ مخصوص مواد زمین کے اندر اتنے طویل عرصے تک رہنے کی کافی صلاحیت رکھتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments