امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے جنگی جہاز بھیجنے کی اپیل فی الوقت قبل از وقت معلوم ہوتی ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب اس جنگ کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی بحریہ بھی اس وقت اس تنگ آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ٹینکروں کو تحفظ فراہم نہیں کر پا رہی۔ فی الحال یہ راستہ بہت خطرناک ہے کیونکہ اس کے کئی ٹینکر پہلے ہی نشانہ بن چکے ہیں۔ فرانسیسی صدر میکرون نے کہا ہے کہ فرانس خلیج میں جنگی جہاز بھیجنے کو تیار ہے لیکن یہ صرف اور صرف ’حفاظتی مشن‘ کے لیے ہو گا۔ ساتھ ہی انھوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام صرف اس وقت ہوگا جب جنگ کا ’شدید ترین مرحلہ‘ نمٹ جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے فرانس کے علاوہ جاپان، چین، جنوبی کوریا اور برطانیہ کو بھی سمندری جہاز کے تحفظ کے لیے جنگی جہازوں کو بھیجنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یاد رہے کہ چند دن قبل ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو برطانیہ کے طیارہ بردار جہاز کی ضرورت نہیں کیونکہ ’ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔‘ واضح رہے کہ برطانوی بحریہ کے پاس دو طیارہ بردار جہاز ہیں۔ ان میں سے ایک، ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز شمالی بحرِ اوقیانوس کی جانب روانہ ہونے کے لیے مکمل تیار ہے۔ خطے میں برطانوی بحریہ کے پاس کوئی اور جنگی جہاز موجود نہیں، البتہ ایچ ایم ایس ڈریگن اضافی فضائی دفاع فراہم کرنے کے لیے اب قبرص کے راستے پر ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ