International

غزہ میں 3 ہزار فلسطینیوں کے فضا میں تحلیل ہونے کا ہول ناک انکشاف

غزہ میں 3 ہزار فلسطینیوں کے فضا میں تحلیل ہونے کا ہول ناک انکشاف

غزہ (11 فروری ): غزہ میں خطرناک ترین امریکی ممنوعہ تھرموبیرک بموں کے استعمال کا انکشاف ہوا ہے۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں 3 ہزار فلسطینیوں کے فضا میں تحلیل ہونے کا ہول ناک انکشاف کیا ہے اور بتایا کہ ان بموں نے فلسطینیوں کا نام و نشان تک باقی نہیں چھوڑا۔ تھرموبیرک بموں کا درجہ حرارت 3 ہزار 500 سینٹی گریڈ ہوتا ہے، اس سے فوری طور پر جسم راکھ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جنگی جرم ہے، یورپ اور امریکا نے اسرائیل کو یہ بم سپلائی کیے، جس سے عالمی نظام انصاف غزہ کے امتحان میں ناکام رہا۔ 10 اگست 2024 کو صبح سویرے یاسمین مہانی غزہ سٹی کے الطبین اسکول کے دھواں اُگلتے ملبے میں اپنے بیٹے سعد کو تلاش کر رہی تھیں۔ انھیں اپنے شوہر چیختے ہوئے ملے مگر سعد کا کوئی سراغ نہیں تھا۔ مہانی نے نشر ہونے والی الجزیرہ عربی کی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ’’میں مسجد کے اندر گئی تو خود کو گوشت اور خون پر قدم رکھتے پایا، ہم نے کئی دن تک اسپتالوں اور مردہ خانوں میں تلاش کیا، ہمیں سعد کا کچھ بھی نہیں ملا۔ دفنانے کے لیے لاش بھی نہیں۔ یہی سب سے تکلیف دہ بات تھی۔‘‘ مہانی ان ہزاروں فلسطینیوں میں سے ایک ہیں جن کے پیارے اسرائیل کی غزہ کے خلاف جارحیت کے دوران اچانک لاپتا ہو گئے، جس میں 72,000 سے زائد افراد زندگی سے محروم ہو چکے ہیں۔ الجزیرہ عربی کی تحقیق ’’دی ریسٹ آف دی اسٹوری‘‘ کے مطابق غزہ کی سول ڈیفنس ٹیموں نے اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے 2,842 فلسطینیوں کو دستاویزی شکل میں ریکارڈ کیا ہے جو ’’بھاپ بن گئے‘‘ اور ان کے پیچھے خون کے چھینٹوں یا گوشت کے چھوٹے ٹکڑوں کے سوا کوئی باقیات نہیں ملیں۔ ماہرین اور عینی شاہدین نے اس مظہر کو اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی طور پر ممنوع قرار دیے گئے حرارتی اور تھرموبیریک ہتھیاروں کے منظم استعمال سے منسوب کیا ہے، جنھیں عموماً ویکیوم یا ایروسول بم بھی کہا جاتا ہے، اور جو ساڑھے تین ہزار ڈگری سینٹی گریڈ (6,332 فارن ہائیٹ) سے زائد درجہ حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2,842 کی یہ تعداد محض اندازہ نہیں بلکہ غزہ کی سول ڈیفنس کی فرانزک جانچ پر مبنی تفصیلی گنتی کا نتیجہ ہے۔ ترجمان محمود بصل نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’’ہم کسی نشانہ بنائے گئے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں موجود افراد کی معلوم تعداد کو برآمد ہونے والی لاشوں سے ملا کر دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی خاندان بتاتا ہے کہ اندر 5 افراد تھے اور ہمیں صرف 3 مکمل لاشیں ملتی ہیں، تو ہم باقی 2 کو اس وقت ’’بھاپ بن جانے والا‘‘ قرار دیتے ہیں جب مکمل تلاش کے بعد خون کے نشانات یا کھوپڑی جیسے چھوٹے ٹکڑوں کے سوا کچھ نہ ملے۔‘‘ اس تحقیق میں تفصیل بیان کی گئی کہ اسرائیلی گولہ بارود میں شامل مخصوص کیمیائی مرکبات کس طرح انسانی جسم کو چند سیکنڈ میں راکھ میں بدل دیتے ہیں۔ روسی فوجی ماہر واسیلی فاتیگاروف نے وضاحت کی کہ تھرمو بیریک ہتھیار صرف ہلاک نہیں کرتے بلکہ مادے کو نیست و نابود کر دیتے ہیں۔ روایتی دھماکا خیز مواد کے برعکس، یہ ہتھیار ایندھن کا بادل پھیلاتے ہیں جو بھڑک کر ایک عظیم آتشی گولا اور خلا نما اثر پیدا کرتا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments