اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے شمال میں الشجاعیہ کے علاقے میں زمینی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فوج کے پریس بیورو کی جانب سے آج جمعے کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "آپریشن کا مقصد سیکورٹی زون کی توسیع ہے۔ اس دوران میں متعدد مسلح کو ہلاک کر دیا گیا اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا۔ اس میں کمانڈ اینڈ کنٹرول کمپاؤنڈ شامل ہے جس کو حماس کے ارکان نے عسکری سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات دینے کے لیے استعمال کیا"۔ بیان کے مطابق فوج نے مقامی آبادی کی سلامتی کے پیش نظر مخصوص راستوں کے ذریعے لوگوں کو علاقے سے نکل جانے کی اجازت دی۔ مزید یہ کہ اسرائیلی شہریوں کے تحفظ کے لیے غزہ کی پٹی میں مسلح گروپوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج کے ٹینکوں اور فوجی گاڑیوں پر مشتمل قافلے الشجاعیہ کے علاقے کے مشرق میں بڑھتے دکھائی دیے۔ اس دوران مقامی آبادی نے غزہ شہر کے وسطی اور مغربی حصے کی جانب نقل مکانی کی۔ ادھر العربیہ نیوز کے نمائندے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 150 فلسطینی جاں بحق ہو گئے۔ نمائندے نے بتایا کہ حملوں میں غزہ کی پٹی کے وسط میں النصیرات کیمپ اور خان یونس شہر کے جنوب مغربی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ فلسطینی صارفین نے سوشل میڈیا پر وڈیو کلپ جاری کیے ہیں جن میں گذشتہ رات غزہ شہر کے مشرقی حصے میں الشجاعیہ اور التفاح کے علاقوں پر اسرائیلی فوج کے شدید حملوں کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ غزہ میں حکومتی انفارمیشن بیورو کے بیان کے مطابق دار الارقم اسکول پر بم باری میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 30 ہو گئی ہے جب کہ 100 سے زیادہ افراد زخمی ہیں جن میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ مرنے والوں میں 18 بچے ، ایک خاتون اور ایک عمر رسیدہ شخص شامل ہے۔ جمعرات کے روز مذکورہ علاقوں سے وسیع پیمانے پر مقامی آبادی کی نقل مکانی دیکھی گئی۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے مقامی لوگوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ فوری طور پر علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ اسرائیلی فوج کا آپریشن جاری رہنے کے ساتھ غزہ کی پٹی میں انسانی صورت حال ابتر ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کی پیش قدمی اور رہائشی علاقوں اور پناہ گزین مراکز پر شدید بم باری کے بعد رفح شہر سے اجتماعی نقل مکانی کی بڑی لہر سامنے آئی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق گذشتہ چند گھنٹوں میں ہزاروں گھرانے اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار ہو چکے ہیں۔ تباہ حال سڑکیں فرار کی راہ داریوں کی صورت اختیار کر چکی ہیں جہاں فلسطینی گھرانے پیدل چلتے ہوئے اور ریڑھیوں پر اپنا سامان لے کر جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ رفح شہر کے میئر احمد الصرفی نے صحافیوں کو بتایا کہ "صورت حال الم ناک ہے، شہر کے باسی فرار اختیار کر رہے ہیں، ان کے پاس نہ پناہ ہے ، نہ غذا ہے اور نہ پانی ... گھرانے کھلے میدان میں سونے پر مجبور ہیں اور بنیادی ضرورت کی اشیاء تیزی سے ختم ہو رہی ہیں"۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کے روز بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل غزہ کے راستے ایک نئی سیکورٹی راہ داری بنانے پر کام کر رہا ہے۔ یہ "موراج" راہ داری ہے جو رفح اور خان یونس کے بیچ واقع ایک یہودی بستی کا نام ہے۔
Source: social media
ٹرمپ نے یمن پر فضائی حملے کی ویڈیو پوسٹ کردی
ٹرمپ ٹیرف نے امریکی اسٹاک مارکیٹوں کا بھٹا بٹھا دیا، 2 روز میں سرمایہ کاروں کے 60 کھرب ڈالر ڈوب گئے
نیتن یاہو نے اپنے کرپشن کیسز کی سماعت رکوانے کے لیے مدد مانگی تھی: سابق شن بیت سربراہ
امریکہ اب بڑے پیمانے پر انسانی بنیادوں پر امداد کرنے کی پوزیشن میں نہیں: مارکو روبیو
پینگوئن پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے لیکن پیوٹن پر نہیں، امریکی سینیٹر کی تنقید
وقت آگیا ہے ٹرمپ اپنے غلط اقدامات کو روک لیں، چین
امریکہ پیٹریاٹ میزائل عارضی طور پر جنوبی کوریا سے مشرق وسطیٰ منتقل کر رہا ہے: رپورٹ
روس کا یوکرینی صدر کے آبائی علاقے پر میزائل حملہ، 19 افراد ہلاک 50 سے زائد زخمی
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو براہ راست مذاکرات کی پیشکش کر دی
ٹرمپ نے قومی سلامتی ایجنسی کا ڈائریکٹر برطرف کردیا