International

غزہ جنگ کے پہلے 15 ماہ کے دوران 75 ہزار فلسطینی شہید ہوئے: دی لانسیٹ کی تحقیق

غزہ جنگ کے پہلے 15 ماہ کے دوران 75 ہزار فلسطینی شہید ہوئے: دی لانسیٹ کی تحقیق

غزہ (21 فروری ): دنیا کے سب سے مؤقر تحقیقی جریدے دی لانسیٹ نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ غزہ جنگ کے پہلے 15 ماہ میں اموات اس سے کہیں زیادہ ہیں جتنی بتائی گئی تھیں۔ طبی جریدے دی لانسیٹ گلوبل ہیلتھ میں شائع تحقیق کے مطابق غزہ جنگ کے پہلے 15 ماہ میں 75 ہزار سے زائد فلسطینی اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں۔ یہ تعداد غزہ کی وزارتِ صحت کے بتائے گئے 49 ہزار سے بہت زیادہ ہے۔ شہدا میں خواتین، بچے اور بزرگ 56.2 فی صد تھے، یہ شرح غزہ پٹی کی وزارت صحت کی رپورٹس سے تقریباً مطابقت رکھتی ہے۔ اس تحقیق کے لیے ایک سروے کیا گیا ہے، جس کے لیے فیلڈ ورک فلسطینی سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ نے کیا جس کے ڈائریکٹر خلیل الشقاقی تھے، اس تحقیق کے مرکزی مصنف رائل ہولوے لندن یونیورسٹی کے میکائل سپگاٹ تھے، جس کے لیے 30 دسمبر 2024 سے سات دن تک 2 ہزار خاندانوں کے براہِ راست انٹرویوز کیے گئے۔ یہ غزہ میں اموات کا پہلا آزاد آبادیاتی سروے بتایا گیا ہے، جس کے نتائج کو بہت اہم گردانا جا رہا ہے، جس کے مطابق 5 جنوری 2025 تک غزہ کی 3 سے 4 فی صد آبادی جارحیت میں ماری جا چکی تھی، اور تقریباً 16,300 اموات بیماری یا دیگر غیر جنگی وجوہ سے ہوئیں۔ محققین کے مطابق وزارتِ صحت کے اعداد و شمار ممکنہ طور پر کم ہیں، زیادہ نہیں۔ جب کہ ان نتائج پر اعتماد کی شرح 95 فی صد بتائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی۔ اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 250 یرغمال بنائے گئے تھے۔ اسرائیل غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار پر شک ظاہر کرتا ہے، تاہم ایک اسرائیلی فوجی افسر نے کہا تھا کہ یہ اعداد عموماً درست ہوتے ہیں۔ یہ تحقیق غزہ میں اموات کے سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہلاکتوں کی نشان دہی کرتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments