International

غزہ جنگ کے بعد اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی امراض اور خودکشی کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ

غزہ جنگ کے بعد اسرائیلی فوجیوں میں ذہنی امراض اور خودکشی کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ

اسرائیلی فوجی پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) اور خودکشی کے واقعات میں غیرمعمولی اضافے جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ یہ صورت حال 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد پیدا ہوئی۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت دفاع اور صحت کے اداروں کی حالیہ رپورٹس میں فوج کو درپیش ذہنی صحت کے سنگین بحران کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یہ بحران ایسے وقت میں شدت اختیار کر رہا ہے جب غزہ اور لبنان میں لڑائی جاری ہے اور ایران کے ساتھ کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے۔ غزہ کی جنگ جلد ہی پھیل گئی، جس کے نتیجے میں اسرائیل اور لبنان کی حزب اللہ کے درمیان سرحد پار فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس دوران ملک کی تاریخ کی شدید ترین جھڑپوں میں ہزاروں فوجیوں اور ریزرو اہلکاروں کو دونوں محاذوں پر تعینات کیا گیا۔ غزہ اور لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ میں 71 ہزار سے زائد فلسطینیوں اور جنوبی لبنان میں 4400 افراد کو ہلاک کیا ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے اس کے 1100 سے زیادہ فوجی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور وہاں کے 20 لاکھ افراد کی اکثریت کو مناسب رہائش، خوراک اور طبی و صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں۔ فلسطینی ماہرینِ نفسیات کے مطابق غزہ کے عوام ایک ’نفسیاتی آتش فشاں‘ سے گزر رہے ہیں، اور بڑی تعداد میں لوگ علاج کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔ جبکہ بچوں میں ڈراؤنے خواب اور توجہ مرکوز نہ کر پانے جیسی علامات عام ہو چکی ہیں۔ پی ٹی ایس ڈی کے کیسز سنہ 2023 سے اب تک 40 فیصد بڑھ گئے اسرائیلی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ نے ان فوجیوں کی ذہنی صحت پر گہرا اثر ڈالا ہے جو اسرائیل کے اعلان کردہ جنگی مقاصد،غزہ میں حماس کا خاتمہ، یرغمالیوں کی بازیابی اور حزب اللہ کو غیرمسلح کرنا، کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ فوجی بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جن کے فوجی اڈوں پر 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے دوران حملہ کیا گیا تھا۔ اسرائیل کی وزارتِ دفاع کے مطابق ستمبر 2023 کے بعد فوجیوں میں پی ٹی ایس ڈی کے کیسز میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور اندازہ ہے کہ سنہ 2028 تک یہ تعداد 180 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ وزارت کے مطابق جنگی زخموں کے علاج کے لیے زیرِعلاج 22 ہزار تین سو فوجیوں اور اہلکاروں میں سے 60 فیصد پوسٹ ٹراما کا شکار ہیں۔ وزارت نے ذہنی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور بجٹ میں اضافہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ متبادل علاج کے استعمال میں بھی تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ملک کے دوسرے سب سے بڑے صحت کے ادارے مکابی نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں بتایا کہ اس کے زیرِعلاج اسرائیلی فوجی اہلکاروں میں سے 39 فیصد نے ذہنی صحت کے لیے مدد طلب کی، جبکہ 26 فیصد نے ڈپریشن سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments