International

جاپان کی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کے قاتل کو عمر قید کی سزا سنا دی

جاپان کی عدالت نے سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کے قاتل کو عمر قید کی سزا سنا دی

جاپان کی ایک عدالت نے بدھ کے روز ایک 45 سالہ شخص کو عمر قید کی سزا سنا دی جس پر ساڑھے تین سال قبل سابق وزیرِ اعظم شنزو آبے کو قتل کر دینے کا الزام ہے۔ اس سانحے نے قوم کو پریشان اور دنگ کر دیا تھا۔ جولائی 2022 میں جب آبے مغربی شہر نارا میں انتخابی مہم کے لیے تقریر کر رہے تھے تو ٹیٹسویا یاماگامی نے ایک گھریلو ساختہ بندوق سے ان پر مہلک فائرنگ کر دی جس کے بعد اسے موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔ 67 سالہ آبے ملک کے لیے طویل ترین عرصے تک وزیرِ اعظم رہے تھے۔ گذشتہ اکتوبر میں نارا ڈسٹرکٹ کورٹ میں پہلی سماعت میں یاماگامی نے آبے کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا جس کے بعد سزا کا فیصلہ یقینی تھا اور سب کی توجہ سزا کی شدت پر مرکوز تھی۔ سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کے مطابق سزا سناتے ہوئے جج شینیچی تناکا نے فائرنگ کو "قابلِ نفرت" عمل قرار دیا اور کہا، "یہ واضح ہے کہ ایک بڑے ہجوم میں بندوق کا استعمال ایک انتہائی خطرناک اور بدنیتی پر مبنی جرم ہے۔" استغاثہ نے اس شوٹنگ کو "انتہائی سنگین واقعہ" قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا جو "جنگ کے بعد کی تاریخ میں بے مثال ہے۔" دفاعی وکلاء نے یونیفیکیشن چرچ سے منسلک خاندانی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے 20 سال سے کم سزا کے لیے استدلال کیا۔ یہ مسائل مجرم کو جرم کی ترغیب دینے کا باعث بنے۔ اگرچہ وہ اُس وقت جاپان کے رہنما نہیں تھے لیکن آبے حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک طاقتور شخصیت اور متحد کر کے رکھنے والی قوت رہے۔ ان کی غیر موجودگی سے پارٹی کے اندر ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جس کے بعد سے توسیعی مدت کے ساتھ دو مرتبہ قیادت کا مقابلہ دیکھنے میں آیا ہے اور وزرائے اعظم باریاں لیتے رہے ہیں۔ آبے نے خود وزیرِ اعظم کے طور پر دو الگ الگ مدتوں میں کل 3,188 دنوں تک خدمات انجام دیں اور پھر صحت کے مسائل کی بنا پر ستمبر 2020 میں استعفیٰ دے دیا۔ شاگرد کے طور پر ان کے زیرِ تربیت رہنے والی سانائے تاکائیچی اب جاپان اور ایل ڈی پی کی قیادت کر رہی ہیں لیکن اقتدار پر پارٹی کی گرفت کافی حد تک کم ہو گئی ہے۔ آبے کے قتل سے ان کی پارٹی اور یونیفیکیشن چرچ کے درمیان ایک گہرا تعلق بھی سامنے آیا۔ اس تنظیم کو کئی لوگ ایک شخص کے گرد گردش کرنے والا فرقہ یا مکتبِ فکر سمجھتے ہیں۔ پارٹی کی اندرونی تحقیقات سے پتا چلا کہ سو سے زیادہ قانون سازوں نے اس گروپ سے معاملات طے کیے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں ووٹرز نے ایل ڈی پی سے کنارہ کشی اختیار کر لی جس نے جنگ کے بعد بیشتر عرصے کے دوران جاپان پر حکومت کی ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق یاماگامی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی والدہ کے یونیفیکیشن چرچ کو ایک خطیر عطیہ دینے کی وجہ سے ان کے خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے خلاف ان کے دل میں رنجش تھی اور انہوں نے اپنا غصہ آبے پر نکالا کیونکہ سابق وزیرِ اعظم نے ایک بار چرچ سے وابستہ ایک گروپ کی جانب سے منعقدہ تقریب میں ویڈیو پیغام بھیجا تھا۔ جنوبی کوریا میں 1954 میں قائم ہونے والا یونیفیکیشن چرچ اپنی اجتماعی شادیوں کے لیے مشہور ہے اور جاپانی پیروکاروں کو آمدنی کا ایک اہم ذریعہ شمار کرتا ہے۔ اگرچہ اندرونِ ملک آبے کے بارے میں لوگ خاصے منقسم تھے لیکن وہ ان چند عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جن کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سےگہرے تعلقات تھے۔ آبے 2016 کے انتخابات میں ٹرمپ کی فتح کے بعد ان سے ملاقات کرنے والے اولین غیر ملکی رہنما تھے اور امریکہ اور جاپان میں گولف کھیلنے کے دوران دونوں میں ایک قریبی رشتہ قائم ہو گیا۔ ٹرمپ کے ساتھ اپنے معاملات میں وزیرِ اعظم تاکائیچی نے بارہا ان دونوں کی دوستی کا حوالہ دیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments