پیرس: فرانس کے ایوانِ زیریں میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا بل منظور کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ تاہم اس قانون کے نفاذ کے لیے سینیٹ سے منظوری ابھی باقی ہے۔ رائٹرز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ اقدام بچوں کو آن لائن ہراسانی، نفسیاتی دباؤ اور ذہنی صحت کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔ فرانس کی قومی اسمبلی میں بل کے حق میں 116 جبکہ مخالفت میں 23 ووٹ ڈالے گئے۔ اب یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ایوانِ زیریں میں اس پر حتمی ووٹنگ کی جائے گی۔ بل کے متن کے مطابق کم عمر بچوں میں سوشل میڈیا کے حد سے زیادہ استعمال کے باعث ذہنی صحت کے مسائل میں تشویشناک اضافہ ہوچکا ہے، جسے روکنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ بل میں مڈل اسکولوں میں اسمارٹ فونز کے استعمال پر عائد پابندی کو ہائی اسکولوں تک توسیع دینے کی تجویز بھی شامل کی گئی ہے، تاکہ تعلیمی ماحول کو زیادہ محفوظ اور توجہ مرکوز رکھنے والا بنایا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق اس بل کی فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون بھی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور جارحانہ رویوں کا ایک بڑا سبب سوشل میڈیا کو قرار دے چکے ہیں۔ فرانسیسی صدر کا کہنا ہے کہ کم عمری میں سوشل میڈیا تک غیر محدود رسائی بچوں کی نفسیاتی نشوونما کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے، اسی لیے وہ آسٹریلیا کی طرز پر فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے خواہاں ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ