International

فرانس کی فضاؤں میں جدید مصری طیارے کی پرواز سے اسرائیل پریشان

فرانس کی فضاؤں میں جدید مصری طیارے کی پرواز سے اسرائیل پریشان

اسرائیلی ویب سائٹس اور اخبارات نے فرانس کی فضاؤں میں دنیا کے جدید ترین ماڈل کے مصری "رافال" لڑاکا طیارے کے نمودار ہونے کو گہری دلچسپی سے دیکھا ہے۔ فوجی امور کی ماہر اسرائیلی نیوز ویب سائٹ ’’ ناتسیف نیٹ ‘‘ نے اطلاع دی ہے کہ رافال F4.1 لڑاکا طیارہ مصر کے ایک حالیہ سودے کے حصے کے طور پر مینو فیکچرنگ کے بعد آزمائشی پروازوں کے دوران پہلی بار فرانس کی فضاؤں میں دیکھا گیا ہے۔ ویب سائٹ نے اس طیارے کی سروس میں شمولیت کو مشرق وسطیٰ میں فضائی طاقت کے توازن میں ایک ڈرامائی تبدیلی قرار دیا جو مصری فضائیہ کو "انٹیگریٹڈ کامبیٹ نیٹ ورک" کے دور میں لے جائے گا۔ ویب سائٹ نے تصدیق کی کہ طیارہ فرانس کے ’’ ایسٹر ‘‘ ایئر بیس پر آزمائشی پروازوں کے دوران مصری فوجی رنگ (کیموفلاج) اور مخصوص نمبر "DM22" کے ساتھ نظر آیا۔ وضاحت کی گئی کہ دو نشستوں والا یہ طیارہ 30 لڑاکا طیاروں کی اس نئی کھیپ کا پہلا طیارہ ہے جس کا معاہدہ مصر نے مئی 2021 میں کیا تھا۔ اس سے مصر کے رافال بیڑے کی کل تعداد 54 ہو جائے گی۔ اسی تناظر میں ویب سائٹ ’’ اسرائیل ڈیفنس ‘‘ نے بتایا کہ ’’ F4.1 ‘‘ ماڈل محض ایک عام اپ گریڈ نہیں ہے بلکہ ایک بڑی تکنیکی چھلانگ ہے جو طیارے کو "انٹیگریٹڈ کامبیٹ نیٹ ورک" میں بدل دیتی ہے۔ ویب سائٹ پر مزید کہا گیا کہ نیا لڑاکا طیارہ سیٹلائٹس، دیگر طیاروں اور زمینی و بحری افواج سے جڑا ہوا ہے جو پائلٹ کو اس کی جدید سکرین کے ذریعے میدانِ جنگ کا مکمل نظارہ فراہم کرتا ہے اور سیکنڈوں میں ڈیٹا کے تبادلے کی اجازت دیتا ہے۔ قبل از وقت وارننگ طیاروں ’’ ای ٹو ہاک آئی ‘‘ کے ساتھ رابطہ مصری پائلٹ کو اپنے حریف سے ہمیشہ دو قدم آگے رکھتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے توجہ دلائی ہے کہ مصری پائلٹ ’’ سکورپین سمارٹ ہیلمٹ ‘‘ استعمال کریں گے۔ یہ ہیلمٹ آنکھوں سے رہنمائی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یعنی پائلٹ کے لیے صرف ہدف کی طرف دیکھنا کافی ہے تاکہ اس کا ڈیٹا فوراً اس کے سامنے آ جائے اور وہ طیارے کا رخ حریف کی طرف موڑے بغیر اس پر میزائل داغ سکے۔ یہ قریبی اور دور کی فضائی لڑائیوں میں ایک مہلک خصوصیت ہے۔ اسلحے کے حوالے سے اسرائیلی رپورٹس میں طیارے کی زیادہ وزنی اور مہلک گولہ بارود لے جانے کی صلاحیت کا ذکر کیا گیا۔ 1000 کلوگرام وزنی ‘‘ ہیمر ‘‘ بم جو مضبوط اور زیر زمین چھپے اہداف کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں بھی لے جائے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نئی نسل کے ’’ میکا ‘‘ میزائل اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے "میٹیور" فضائی میزائل بھی لے جائے جا سکتے ہیں ۔ یہ چیز خطے میں معیاری برتری کے حوالے سے مستقل تشویش پیدا کرتی ہے۔ ویب سائٹ "ناتسیف نیٹ" نے بتایا کہ مربوط الیکٹرانک دفاعی نظام ’’ سپیکٹرا‘‘ رافال طیارے کو جدید ترین ریڈاروں کو جام کرنے اور چکمہ دینے کی زبردست صلاحیت فراہم کرتا ہے جس سے یہ ایک سیمی سٹیلتھ طیارہ بن جاتا ہے جسے جدید فضائی دفاعی نظاموں کے ذریعے ٹریس کرنا یا نشانہ بنانا مشکل ہوتا ہے۔ اسرائیلی رپورٹس میں بتایا گیا کہ یہ صلاحیتیں مصر کو سرحدوں سے باہر وسیع فوجی آپریشن کرنے کی طاقت دیتی ہیں۔ چاہے وہ بحیرہ روم کے طاس میں ہوں یا ہارن آف افریقہ کے علاقے میں۔ اس سے خطے میں مصری فضائیہ کی پوزیشن مستحکم ہوتی ہے۔ اسرائیلی فوجی ویب سائٹس نے اس سے قبل سال 2024 میں مصر کے لیے چینی طیاروں کے سودے پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا تھا جو قاہرہ کو فضائی برتری فراہم کر سکتے ہیں جس سے طاقت کا توازن بدل جائے گا۔ ویب سائٹس نے بتایا کہ مصر نے چینی ساختہ ’’ J-10C ‘‘ طیاروں کا سودا کیا ہے جنہیں "مائٹی ڈریگن" بھی کہا جاتا ہے۔۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو مصر کی دفاعی اور فوجی پالیسیوں میں نئے رجحانات اور اسلحے کے دیگر ذرائع پر قاہرہ کے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔ مصر ان طیاروں اور فرانسیسی "رافال" طیاروں کی ملکیت کے ساتھ، کسی بھی لڑائی میں فضائی طور پر برتری حاصل کر لے گا۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments