International

فرانس : 15 سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کا عندیہ

فرانس : 15 سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کا عندیہ

فرانسیسی حکومت اس امر پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ 15 سال کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے۔ یہ فیصلہ ہائی سکولز کے بچوں پر اثر انداز ہوگا کیونکہ ہائی سکولوں کے بچے اور بچیاں سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے اپنی تعلیمی سرگرمیوں سے بیگانگی کی طرف مائل ہیں۔ فرانس کے مقامی ذرائع ابلاغ نے اس امر کو بدھ کے روز رپورٹ کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فرانس کے مختلف طبقات میں سماجی سطح پر یہ احساس پایا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا نے ان کے بچوں کی تعلیم، اخلاق اور صحت پر برا اثر ڈالا ہے۔ یاد رہے اس سے پہلے بھی بعض ملکوں میں نوجوانوں کی سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی لگائی جا چکی ہے جبکہ یورپ و امریکہ کے بہت سے تعلیم یافتہ اور متمول خاندان اپنے بچوں کو سوشل میڈیا اور موبائل فون کے استعمال سے دور رکھتے ہیں۔ تاکہ ان کی تعلیم اور اخلاقی اقدار دونوں متاثر نہ ہوں۔ اس ماحول میں فرانس کے صدر ایمانوئیل میکروں نے اکثر سوشل میڈیا پر اس امر کو نمایاں کیا ہے کہ نوجوانوں میں بڑھے ہوئے تشدد کے واقعات کی اہم وجہ سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ اسی لیے انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ آسٹریلیا اور بعض دوسرے ملکوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے فیس بک، سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک اور یوٹیوب استعمال کرنے پر پابندی لگائی ہے۔ فرانس کے ایک بڑے اخبار کے مطابق صدر میکروں نے اس امر کا اظہار سال نو کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں بھی کیا ہے کہ ان کی حکومت ایسا مسودہ قانون ماہ جنوری کے شروع میں پیش کرے گی جو فرانس کی نوجوان نسل کو سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے ایک کوشش کے طور پر ہوگا۔ تاہم فرانسیسی وزیراعظم کے دفتر نے فوری طور پر اس بارے میں تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یاد رہے فرانس میں پرائمری اور مڈل کی سطح تک کے بچوں کے موبائل فون استعمال کرنے پر 2018 سے پابندی عائد ہے۔ کہ پرائمری و مڈل کی سطح تک کے بچوں میں سوشل میڈیا استعمال کے منفی اثرات سامنے آئے تھے۔ یاد رہے فرانس میں 15 سال تک کے بچے مڈل سکول تک ہوتے ہیں۔ بعدازاں 2023 میں فرانس نے ایک ایسے قانون کی منظوری دی جس کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا پر اپنا کوئی بھی اکاؤنٹ بنانے سے پہلے والدین کی منظوری لینا ضروری ہے۔ تاہم اب فرانسیسی صدر یورپی یونین کی سطح پر اس سلسلے میں زیادہ سخت اور بڑے اقدامات کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاکہ یورپی یونین کی سطح پر قانون سازی ہو اور یورپ کے بچوں کو موبائل اور سوشل میڈیا کے اثرات سے بچایا جاسکے۔ یورپی یونین کی پارلیمان نے پچھلے سال ماہ نومبر میں اس امر پر زور دیا تھا کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر کی جانی چاہیئے۔ سوسائٹی کے سوچنے سمجھنے والے اور تعلیم یافتہ طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ بچوں کے موبائل فونز اور سوشل میڈیا تک رسائی ان کی تعلیم، اخلاق اور صحت سبھوں کو متاثر کر رہی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments