نئی دہلی: مرکزی حکومت نے ’غیر ملکی تعاون (ضابطہ) ترمیمی بل، 2026‘ (ایف سی آر اے بل) کو جانچ کے لیے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے پاس بھیج دیا ہے۔ بدھ کو لوک سبھا میں اپوزیشن کے شدید ہنگامے کے درمیان مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نیتیا نند رائے نے بل کو جے پی سی کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی، جسے ایوان نے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔
بل کو جے پی سی کے پاس بھیجے جانے کے بعد کانگریس نے حکومت سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامے کے درمیان بل کو زبردستی منظور کرانے کے بجائے حکومت اسے جے پی سی کے پاس بھیج رہی ہے، لیکن اپوزیشن کی اصل مانگ بل کو واپس لینا ہے۔
وینوگوپال نے کہا کہ یہ بل آخری وقت میں لایا گیا ہے اور پارلیمنٹ کا اجلاس جمعرات کو ختم ہونے والا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بدھ کو دوپہر 12 بجے لوک سبھا سکریٹریٹ سے اطلاع ملی کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بل پیش کریں گے، تاہم وہ ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اس کے بعد وزیر مملکت نے بل کو جے پی سی کے پاس بھیجنے کی تجویز پیش کی۔
کانگریس رہنما نے سوال اٹھایا کہ جب اپوزیشن بل واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے تو اسے جے پی سی کے پاس بھیجنے کا مقصد کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف آر ایس ایس کو رجسٹریشن کے ذریعے دنیا بھر سے چندہ مل رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اقلیتوں اور صحت و تعلیم کے شعبے میں اچھا کام کرنے والی تنظیموں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قابل قبول نہیں ہے۔
اس معاملے پر سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے بھی بل کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایف سی آر اے ترمیمی بل کے خلاف پورا اپوزیشن ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو کے اس مؤقف پر سوال اٹھایا کہ یہ بل اقلیتی طبقے کے خلاف نہیں ہے۔
اس کے جواب میں رجیجو نے کہا کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بل میں ایک بھی ایسی شق نہیں ہے جو اقلیتی طبقے کے خلاف ہو۔ انہوں نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی اقلیتی طبقے کو نشانہ بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق اپوزیشن کا یہ کہنا درست نہیں کہ حکومت بیرون ملک سے آنے والے فنڈز کو بغیر کسی قانونی ضابطے کے ملک میں لانے کی اجازت نہیں دے رہی۔
لوک سبھا میں منظور کی گئی تجویز کے مطابق ایف سی آر اے ترمیمی بل کی جانچ کے لیے بننے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں لوک سبھا کے 21 اور راجیہ سبھا کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔ کمیٹی کو 2026 کے سرمائی اجلاس کے پہلے ہفتے کے آخری دن تک اپنی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔
Source: Admin
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
10 months ago
بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ
10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک
11 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال
10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں
11 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے
11 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے
11 months ago
پونے کی مسجد میں کھدائی کے دوران سرنگ دریافت، کشیدگی، 200 پولیس اہلکار تعینات
11 months ago
جی ایس ٹی ریٹ کم ہونے سے کیا ہوا سستا اور کیا ہوا مہنگا
11 months ago
حضرت بل درگاہ میں قومی نشان کی بے حرمتی کسی طور برداشت نہیں کی جا سکتی: کرن رجیجو
10 months ago
شر پسند نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی کی، پر تشدد احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments