International

دو سال سے زیادہ کی رکاوٹوں کے بعد سکولوں کا سامان غزہ منتقل

دو سال سے زیادہ کی رکاوٹوں کے بعد سکولوں کا سامان غزہ منتقل

اقوام متحدہ کے بچوں کے لیے قائم ادارے 'یونیسکو' کی طرف سے منگل کے روز بتایا گیا ہے کہ دو سال سے طویل عرصے پر پھیلی جنگ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ غزہ کے بچوں کے لیے تعلیم سے متعلق اشیاء اور دیگر ضروریات منتقل ہو سکی ہیں۔ جنگ کے دوران غزہ کے بچوں کے تعلیمی سیشن معطل رہے اور تعلیم کا سلسلہ بند ہو کر رہ گیا۔ تاہم اسرائیلی حکام نے سکولوں کے لیے تعلیمی ساز و سامان اور کٹس کی فراہمی کی اجازت اس وقت دی ہے جب جنگی تباہ کاری کے نتیجے میں سکولوں کی عمارات تباہ ہو چکی ہیں۔ 'انروا' کے تعلیمی مراکز کو ختم کیا جا چکا ہے اور تعلیم کا پورا نظام اسرائیل کی جنگی حکمت عملی کی نذر ہو گیا ہے۔ 'یونیسیف' کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایک روز قبل تعلیمی کٹس جن میں پینسلیں، ورک بکس، لکڑی کا بنا ہوا تعلیمی معاونت پر مبنی سامان، چھوٹے بچوں کے لیے سکولوں میں کھیل کے لیے تعلیمی اشیاء شامل ہیں غزہ میں منتقل کی ہیں۔ ابھی مزید سکولوں کی ضروریات سے متعلق اسی نوعیت کی اشیاء کی 2500 کٹس کی توقع کر رہے ہیں۔ کیونکہ ابھی اتنی ہی تعداد میں سکول کٹس کی اجازت دی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کا ماتحت سول ادارہ 'کوگیٹ' تعلیمی ضرورتوں کی ان اشیاء کی غزہ منتقلی پر مامور ہے کہ جتنی کٹس کی اجازت دی گئی ہے اس سے زیادہ چیزیں غزہ منتقل نہ کی جا سکیں۔ غزہ میں دو سال سے زائد کی جنگ صرف غزہ کی آبادی، گھروں اور کاروبار اور تعلیم گاہوں کے لیے تباہ کن نہیں تھی بلکہ تعلیم و تدریس کا مکمل شعبہ بھی اس کی وجہ سے تباہی سے دوچار رہا ہے۔ اسرائیل کی غزہ جنگ جہاں 20 ہزار سے زائد فلسطینی بچوں کی ہلاکت کا باعث بنی ہے وہیں ہزاروں بچوں کی تعلیم کے لیے بھی اسرائیلی جنگ قاتلانہ رہی ہے۔ بے شمار طلبہ و طالبات سے نہ صرف بمباری کر کے ان کے سکول چھین لیے گئے بلکہ تعلیم کا حق بھی چھین لیا گیا۔ 'یونیسیف' کی طرف سے اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ 'یونیسکو' کی کوشش رہی ہے کہ وہ تعلیمی اسباب اور معاونت کے بغیر ہی غزہ کے پناہ گزین کیمپوں میں بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی صورت پیدا کر سکیں۔ 'یونیسیف' اس وقت تعلیم کے لیے معاونت کی فراہمی کو بہتر کرنے کی کوشش میں ہے۔ تاکہ سکول جانے کی عمر کے تقریباً 336000 بچوں کو اس سلسلے میں مدد دی جا سکے۔ 'یونیسیف' کے ذمہ دار ایلڈر نے کہا یہ تعلیم خیموں میں کی دی جا سکتی ہے کیونکہ اس وقت سکول موجود نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کی جولائی 2025 میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق 97 فیصد سکولوں کی عمارات کو نقصان پہنچا ہے۔ یاد رہے غزہ میں تعلیم کے لیے زیادہ تر جگہیں 'یونیسیف' کی مدد سے فراہم ہوں گی جو غزہ کے وسطی علاقے اور جنوبی علاقوں میں ممکن ہو سکیں گی۔ 'یونیسیف' کے مطابق غزہ جنگ میں مجموعی طور پر 71000 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ اسرائیلی فوج نے 20000 سے زائد بچوں کو ہلاک کیا۔ نیز 10 اکتوبر 2025 سے جاری جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے مزید 110 فلسطینی بچوں کو قتل کیا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments