اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے خطرات کو’ جنگل کے قانون‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے اس رجحان کی مذمت کی ہے، جو انسانی حقوق پر پوری دنیا میں ایک بڑے حملے کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حملے کی قیادت خاص طور پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے عالمی برادری کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کے خلاف بھی متنبہ کیا۔ انٹونیو گوتیریس نے پیر کے روز جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے نئے اجلاس کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ یہ حملہ نہ تو خفیہ طور پر کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اچانک، بلکہ یہ دن دیہاڑے ہو رہا ہے اور اکثر طاقتور ترین ریاستوں کی ہدایت پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کو جان بوجھ کر اور تزویراتی طور پر بلکہ کبھی کبھی تو فخر کے ساتھ قربان کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کسی ملک یا رہنما کا نام لیے بغیر افسوس کا اظہار کیا کہ قانون کی حکمرانی طاقتور کے قانون کے بوجھ تلے دب کر رہ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انسانی حقوق زوال کا شکار ہوتے ہیں تو باقی سب کچھ بکھر جاتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں اجتماعی مصائب کو قبول کر لیا گیا ہے، جہاں انسانوں کے ساتھ لین دین کی کرنسی کے طور پر سلوک کیا جاتا ہے اور جہاں بین الاقوامی قانون کو محض ایک پریشانی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت، تیزی سے ایسے طریقوں سے استعمال ہو رہی ہے جو جبر کو بڑھاتے ہیں، عدم مساوات کو گہرا کرتے ہیں اور پسماندہ طبقات کو آن لائن اور آف لائن امتیازی سلوک کی نئی شکلوں سے دوچار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ گوتیریس نے شہری حقوق کے گلا گھونٹنے والی آہنی گرفت پر وسیع تر تنقید کی اور صحافیوں و انسانی حقوق کے کارکنوں کی قید، غیر سرکاری تنظیموں کی بندش، خواتین کے حقوق میں کمی اور معذور افراد کو الگ تھلگ کرنے کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریتیں زوال پذیر ہیں اور تارکین وطن کے انسانی حقوق و وقار کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے، گرفتار کیا جا رہا ہے اور بے دخل کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے عہدیدار نے اپنی گفتگو کا اختتام اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کیا اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دو ریاستی حل کو اب کھلے عام ناقابل عمل قرار دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے پہلے بھی دنیا پر چھائی ہوئی تاریک تصویر کی طرف اشارہ کیا تھا، جہاں تنازعات بڑھ رہے ہیں، سزاؤں سے بچنے کا رواج عام ہو رہا ہے، انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں اور انسانی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سب ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فنڈز میں کمی آ رہی ہے، خاص طور پر ان بڑی کٹوتیوں کے نتیجے میں جو ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد امریکی غیر ملکی امداد میں کی ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ