دہلی کے موتی باغ میں واقع ستیا نکیتن کے علاقے میں ایک پانچ منزلہ عمارت کے گرنے سے سات افراد کی دردناک موت کے معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ پولیس نے عمارت کے مالکان اور اس کے منتظمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار شدگان میں 81 سالہ ہری رام گپتا، ان کی 75 سالہ اہلیہ ارملا گپتا اور ان کا 52 سالہ بیٹا مہیش گپتا شامل ہیں۔
تمام ملزمان کو عدالت میں جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ عدالت نے ہری رام گپتا اور ان کی اہلیہ ارملا گپتا کو 14 دن کی جوڈیشل کسٹڈی (عدالتی تحویل) میں بھیج دیا، جبکہ ان کے بیٹے مہیش گپتا کو دو دن کے پولیس ریمانڈ پر سونپ دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 6 ستمبر کو ستیا نکیتن میں پانچ منزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی تھی، جس میں سات افراد کی جان چلی گئی تھی۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات اور پوچھ گچھ کے دوران جائداد کے مالکانہ حقوق اور اس کے انتظامی امور سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ دستاویزات کی جانچ کے مطابق یہ جائداد قانونی طور پر ارملا گپتا کے نام پر درج ہے۔ تاہم، ان کے شوہر ہری رام گپتا، جو بھارتی فضائیہ (انڈین ایئر فورس) کے ریٹائرڈ سارجنٹ ہیں، جائداد اہلیہ کے نام ہونے کے باوجود عمارت کا تمام تر انتظام خود دیکھتے تھے۔ عمارت کے دو فلورز کے بجلی کے کنکشن بھی ہری رام کے نام پر ہی ہیں۔ ان کا بیٹا مہیش گپتا، جو پیشے سے ہارڈ ویئر اور پینٹ کی دکان چلاتا ہے، عمارت کی دیکھ بھال میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتا تھا۔
عمارت کے مالکان کی گرفتاری کے بعد اب پولیس اور انتظامیہ کی نظریں پےئنگ گیسٹ آپریٹر اور لیبر ٹھیکیدار پر ہیں۔ پولیس ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں ان دونوں کے کردار کی بھی باریک بینی سے جانچ کی جائے گی اور ثبوت کی بنیاد پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
حادثے کی جگہ پر جاری ریسکیو آپریشن اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ ملبے سے کل 12 افراد کو باہر نکالا گیا تھا، جن میں سے سات افراد کی جان نہ بچ سکی۔ انتظامیہ نے تمام قانونی کارروائیوں کو پورا کرنے کے بعد تمام متوفین کی لاشیں ان کے غمزدہ لواحقین کے حوالے کر دی ہیں۔
دہلی کے موتی باغ میں واقع ستیا نکیتن کے علاقے میں ایک پانچ منزلہ عمارت کے گرنے سے سات افراد کی دردناک موت کے معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments