شپ ٹریکنگ فرم کپلر (Kpler) نے دعویٰ کیا ہے کہ ستمبر کے آخری ہفتے کے 7 دنوں میں سے 4 دن مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے زیادہ رہیں۔
رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 24 ستمبر اور 27 سے 29 ستمبر کے دوران خطے سے خام تیل کی برآمدات روزانہ 19.5 ملین سے 22.5 ملین بیرل تک پہنچ گئیں جبکہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ شروع ہونے سے قبل ایک سال کے دوران اوسط برآمدات 18 ملین بیرل یومیہ تھیں۔
کپلر کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یکم اکتوبر کو خام تیل کی 7 روزہ اوسط برآمدات 18.5 ملین بیرل یومیہ رہیں۔
ان اعداد و شمار میں آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر کے راستے ترسیل، تیل کے ٹرمینلز سے برآمدات اور خلیج عمان میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل کی منتقلی بھی شامل ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق خطے میں تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے کے باوجود برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔
بحری جہازوں سے متعلق اطلاعات فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں 7 حملے رپورٹ ہوئے جبکہ برطانوی بحری تجارتی ادارے کے مطابق 2 اکتوبر سے آبنائے ہرمز یا خلیج عدن میں روزانہ کم از کم 1 حملہ رپورٹ کیا گیا ہے۔
شپ ٹریکنگ فرم کپلر (Kpler) نے دعویٰ کیا ہے کہ ستمبر کے آخری ہفتے کے 7 دنوں میں سے 4 دن مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے زیادہ رہیں۔...
Source: Admin
Comment
Your View
We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!
Post your comment
0 CommentsNo comments