International

چینی سائنسدانوں کا بڑا کمال، آنتوں کی بیماری کے علاج کےلیے "لیونگ گلو” بنا لیا

چینی سائنسدانوں کا بڑا کمال، آنتوں کی بیماری کے علاج کےلیے "لیونگ گلو” بنا لیا

بیجنگ: چینی سائنس دانوں نے بڑا کارنامہ انجام دیتے ہوئے آنتوں کی بیماری کے علاج کے لئے "اسمارٹ لیونگ گلو” بنا لیا ہے۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پروگرام شدہ بیکٹیریا پر مشتمل ایک نیا ’’زندہ اسمارٹ گلو‘‘ ہے جو آنتوں کی بیماری کے علاج کےلیے بہت مفید ثابت ہوگا، یہ بیکٹیریا زبردست طریقے سے کام کریگا اور آنتوں کے اندر خود حرکت کر کے زخموں کی نشاندہی کرنے کے بعد انھیں جوڑ کر بھرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔ انفلیمیٹری باؤل ڈیزیز نامی بیماری کے علاج کے لیے اسے ایک جدید طریقہ گردانا جارہا ہے، اس سلسلے میں تحقیق گزشتہ روز عالمی شہرت یافتہ سائنسی جریدے نیچر بائیوٹیکنالوجی میں شائع ہوئی۔ ریسرچرز نے آنتوں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایک بے ضرر بیکٹیریا ای کولی (E-coli) کو جینیاتی طور پر اس طرح تبدیل کیا کہ وہ مخصوص حالات میں ہی فعال ہو اور زخموں کےلیے سود مند ہو۔ یہ شاندار تحیقی شینژن انسٹی ٹیوٹس آف ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی اور شینژن یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے مشترکہ طور پر کی گئی ہے سائنسدانوں نے بیکٹیریا میں ایک خاص جینی سرکٹ شامل کیا گیا جو صرف اس وقت متحرک ہوتا ہے جب آنتوں میں خون موجود ہو جو انفلیمیٹری باؤل ڈیزیز کی شدید کیفیت، اندرونی زخموں اور خون بہنے کی اہم علامت ہے۔ ریسرچ میں بیکٹریا کے کام کرنے کے طریقہ کار سے متعلق بتایا گیا کہ جیسے ہی یہ بیکٹیریا خون کی موجودگی کو محسوس کرتے ہیں، وہ ایک نہایت چپکنے والی پروٹین خارج کرتے ہیں، جو سمندری جاندار بارنیکل سے حاصل شدہ مادے سے مشابہ ہے۔ یہ پروٹین خون بہنے والی جگہ پر ایک مضبوط حفاظتی تہہ (سیل) بنا دیتا ہے، جو نہ صرف خون کو روکنے میں مدد دیتی ہے بلکہ آنتوں کی اندرونی جھلی کی مرمت کے لئے شفا بخش عوامل بھی خارج کرتی ہے، نجینئرڈ بیکٹیریا کو مائع شکل میں تیار کر کے منہ یا مقعد کے ذریعے جسم میں داخل کیا جاتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ آنتوں میں پہنچنے کے بعد یہ بیکٹیریا فلم جیسی ساخت بنا کر صرف متاثرہ اور خون بہنے والی جگہوں سے چپک جاتے ہیں، جہاں یہ خون روکنے اور ٹشوز کی بحالی میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ تحقیقی ٹیم اب اس ’’زندہ گوند‘‘ کو انسانی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) کی جانب لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے، جو مستقبل میں آنتوں کی سوزش کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لئے ایک محفوظ، مؤثر اور علاج ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ کئی لوگوں کی زندگیاں بچاسکتی ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments