صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نئی تفصیلات ظاہر کیں، جن کا مقصد واشنگٹن کے اس دعوے کی تائید کرنا ہے کہ چین نے ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران زیرِ زمین جوہری تجربہ کیا تھا۔یہ متنازع دعویٰ اس کے باوجود امریکہ کے لیے محرک بن گیا ہے کہ وہ خود بھی ایسے تجربات دوبارہ شروع کرنے پر غور کرے، جیسا کہ اخبار واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا۔ وزارتِ خارجہ کے اسلحہ کنٹرول اور عدم پھیلاؤ کے دفتر کے سربراہ کرسٹوفر ییو نے واشنگٹن میں ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ ایک سیمینار کے دوران کہا:ہم برتری کے معاملے میں کسی ناقابلِ قبول پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔ انہوں نے بیجنگ پر زور دیا کہ وہ اپنی جوہری آزمائشوں کے بارے میں واضح طور پر انکشاف کرے، کیونکہ بعض امریکی حکام اور ماہرین کے مطابق یہ تجربات چین کی اُن کوششوں کا حصہ ہیں ،جن کے ذریعے وہ جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں واشنگٹن کے برابر آنے یا اس سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ جس واقعے کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ 22 جون 2020 کو پیش آیا تھا، جو مغربی چین کے سنکیانگ علاقے میں واقع ایک خفیہ تنصیب "لوب نور" کے قریب پیش آیا۔ ییو نے مزید بتایا کہ واشنگٹن نے ہمسایہ ملک قازقستان میں موجود ایک تنصیب سے حاصل ہونے والے زلزلہ جاتی اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ چین نے ایک دھماکہ خیز جوہری تجربہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سرگرمی کی شدت ریکٹر اسکیل پر 2 اعشاریہ 76ریکارڈ کی گئی، جو نہ تو قدرتی زلزلوں کی خصوصیات سے مطابقت رکھتی ہے اور نہ ہی کان کنی میں استعمال ہونے والے دھماکوں سے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مشتبہ دھماکے کی اصل طاقت یعنی خارج ہونے والی توانائی کی مقدار اب تک واضح نہیں ہو سکی کیونکہ ان کے بقول چینی حکومت نے آزمائش کی تفصیلات چھپانے کی کوشش کی۔ انہوں نے مزید کہا:ہم جانتے ہیں کہ وہ ایسے تجربات کی تیاری کر رہے تھے جن کی دھماکہ خیز طاقت سینکڑوں ٹن توانائی کے برابر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف زلزلہ جاتی اعداد و شمار 2020 میں ہونے والے دھماکے کے حجم کا درست تعین کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق غالب امکان ہے کہ چین نے ایسی تکنیکیں استعمال کیں جنہیں "فصلِ دھماکہ" کہا جاتا ہے، مثلاً جوہری آلات کو زمین کی بہت زیادہ گہرائی میں دھماکے سے اُڑانا، تاکہ دھماکے کی شدت کم دکھائی دے اور بین الاقوامی نگرانی کے نظام کو الجھایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دھماکہ کم از کم "انتہائی حساس" نوعیت کا تھا، یعنی ایسا تجربہ جس میں محدود مقدار میں جوہری مواد استعمال کیا جاتا ہے مگر مکمل سلسلہ وار جوہری ردِعمل پیدا نہیں ہوتا۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ بیانات بظاہر اس شبہے کو دور کرنے کے لیے دیے گئے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے رواں فروری کے اوائل میں دعویٰ کیا تھا کہ چین نے تقریباً چھ برس قبل خفیہ جوہری تجربہ کیا تھا۔ آزاد ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر زلزلہ جاتی معلومات کو سیٹلائٹ ڈیٹا کے ساتھ بھی ملا لیا جائے تو بھی ممکن ہے کہ نتیجہ حتمی نہ ہو۔ دوسری جانب جوہری دھماکوں کی نشاندہی کے لیے زلزلہ پیما سینسر استعمال کرنے والی بین الاقوامی تنظیم، جامع جوہری تجربات کی پابندی کے معاہدے کی تنظیم (CTBTO) نے منگل کو بتایا کہ ییو کی بتائی گئی مدت کے دوران اس نے دو نہایت معمولی زلزلہ نما واقعات، 12 سیکنڈ کے وقفے سےریکارڈ کیے، تاہم وہ اتنے کمزور تھے کہ ان کی وجہ کا اعتماد کے ساتھ تعین نہیں کیا جا سکا۔ امریکی انتظامیہ کی توجہ اس واقعے پر اس کے بعد آئی ہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ اکتوبر میں دعویٰ کیا تھا کہ چین اور روس نے جوہری تجربات کیے ہیں۔ اس دوران انہوں نے امریکہ کے جوہری تجربات کو ان دونوں ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پردوبارہ شروع کرنے کا وعدہ کیا۔ تاہم ٹرمپ کے اس اعلان نے ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے ماہرین میں تشویش پیدا کی، کیونکہ اگر ایسے تجربات دوبارہ شروع کیے گئے تو یہ سرد جنگ کے بعد سے نافذ امریکی پابندی کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا، جس میں امریکہ کا آخری جوہری تجربہ 1992 میں ہوا تھا۔ امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے والا آخری موجودہ معاہدہ 5 فروری کو ختم ہونے کے بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وہ اسے ایک نئے، بہتر اور جدید معاہدے سے بدلنا چاہتے ہیں، جو واشنگٹن اور ماسکو کے ساتھ ساتھ دنیا کی دو بڑی جوہری طاقتوں میں شامل چین کو بھی شامل کرے، کیونکہ چین ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی جوہری قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ کسی ممکنہ چینی جوہری تجربے کی تفصیلات کو علانیہ ظاہر کرنا بیجنگ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک حربہ ہو، تاکہ وہ ایسی بات چیت میں شامل ہو جائے۔ چین نے طویل عرصے سے اس طرح کے معاہدوں میں شرکت کرنے سے انکار کیا ہے، جیسے کہ "نیو اسٹارٹ" معاہدہ جس کا کام اس ماہ ختم ہوا، دلیل دی کہ اس کا جوہری ذخیرہ روس اور امریکہ کے ذخائر کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے۔تاہم ٹرمپ اور دیگر امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین کا جوہری ذخیرہ چھوٹا ہے، لیکن یہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور بیجنگ وہ پابندیاں نہیں مانتا جو امریکہ نے جوہری تجربات پر خود عائد کی ہوئی ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ