Meta Pixel
Logo

Akhbar-e-Mashriq

PUBLISHED FROM Kolkata Delhi Ranchi Lucknow Bhopal Srinagar Siliguri Asansol
Akhbar-e-Mashriq Akhbar-e-Mashriq
ALERTS

National

'گرجا گھر اور رفاہی ادارے خطرے میں': بھارتی ایف سی آر اے ترمیم 2026 پر امریکی رکنِ کانگریس کی شدید تنقید

'گرجا گھر اور رفاہی ادارے خطرے میں': بھارتی ایف سی آر اے ترمیم 2026 پر امریکی رکنِ کانگریس کی شدید تنقید

غیر ملکی تعاون کی تنظیم سے متعلق ایکٹ (ایف سی آر اے) میں مجوزہ ترمیم کو امریکی کانگریس کے رکن رائلی مور کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے اس ترمیم کو "مسیحیوں پر واضح حملہ" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام بھارت اور امریکہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔

مجوزہ ترمیم کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ قانون سازی حکومت کو گرجا گھروں اور مذہبی رفاہی اداروں کا کنٹرول سنبھالنے کا موقع دے سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فارن کنٹریبیوشن (ریگولیشن) امینڈمنٹ بل، 2026 بھارتی پارلیمنٹ کے جاری مونسون سیشن کے دوران شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک پوسٹ میں امریکی رکنِ کانگریس نے مجوزہ ترمیمی بل پر تشویش کا اظہار کرنے سے قبل بھارت میں مسیحیت کی طویل تاریخ کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا:

"حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے چند دہائیوں بعد ہی جب 'سینٹ تھامس دی اپوسل' نے مالابار کے ساحل کا سفر کیا تھا، تب ہی سے مسیحی بھارت میں موجود ہیں۔"

انہوں نےایکس پر ایک پوسٹ میں مجوزہ ترامیم پر تشویش کا اظہار کرنے سے پہلے ہندوستان میں عیسائیت کی طویل تاریخ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ، "مسیحی برادری ہندوستان میں اس وقت سے ہے جب سے سینٹ تھامس نے ہمارے خداوند یسوع مسیح کے جی اٹھنے کے چند دہائیوں بعد مالابار ساحل کا سفر کیا۔"اس کے بعد انہوں نے بل پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ، "لیکن عیسائیت کی اس طویل تاریخ کے باوجود، ہندوستانی پارلیمنٹ ایف سی آر اے کے قوانین میں ترمیم کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ حکومت گرجا گھروں اور مذہبی خیراتی اداروں کا کنٹرول سنبھال سکے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہ مسیحی برادری پر براہ راست حملہ ہے، اگر یہ بل اس طرح آگے بڑھتا ہے جیسا کہ ہونا چاہیے تو یہ ہندوستان کے ساتھ ہمارے دوطرفہ تعلقات میں بڑی تشویشناک بات ہوگی۔‘‘

موجودہ قوانین کے تحت، تنظیموں کو غیر ملکی عطیات قبول کرنے سے پہلے وزارت داخلہ کے ساتھ رجسٹر کرنا ضروری ہے۔ اس رجسٹریشن کی ہر پانچ سال بعد تجدید ہونی چاہیے۔ بل کے ساتھ موجود پس منظر کے نوٹ کے مطابق، 15 جولائی 2026 تک ہندوستان میں 14,449 فعال ایف سی آر اے رجسٹریشن تھے۔ مزید برآں، 22,498 رجسٹریشن منسوخ کر دیے گئے تھے، جبکہ 15,212 کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ 2019 اور 2022 کے درمیان، ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ تنظیموں کو 55,741 کروڑ روپے کے غیر ملکی عطیات ملے۔

سب سے اہم تجاویز میں سے ایک مرکزی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ 'نامزد اتھارٹی' کی تشکیل ہے۔ اس اتھارٹی کو غیر ملکی عطیات اور ان فنڈز سے بنائے گئے اثاثوں کا انتظام سنبھالنے کا اختیار ہوگا۔ بل میں تجدید کے لیے کم از کم استعمال کی حد کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ وہ تنظیمیں جنہوں نے پچھلے دو مالی سالوں میں دس لاکھ روپےسے کم غیر ملکی تعاون حاصل کیا ہے یا استعمال کیا ہے وہ اب تجدید کے اہل نہیں ہو سکتے ہیں۔

اضافی دفعات میں دیگر تنظیموں کو غیر ملکی تعاون کی منتقلی پر سخت پابندیاں، غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے اور استعمال کرنے کے لیے سخت ٹائم لائنز، اور پروجیکٹس، سرگرمیوں، ویب سائٹس، اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے وسیع تقاضے شامل ہیں۔ نامزد اتھارٹی کے مجوزہ اختیارات بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں، این جی اوز، اور کئی سیول سوسائٹی گروپس کا استدلال ہے کہ ان ترامیم سے مرکزی حکومت کو غیر ملکی فنڈنگ ​​پر منحصر تنظیموں پر ضرورت سے زیادہ کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔


گرجا گھروں اور مذہبی تنظیموں نے خاص طور پر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر ان کی رجسٹریشن کی میعاد ختم ہو جاتی ہے یا اسے منسوخ کر دیا جاتا ہے تو کئی دہائیوں سے غیر ملکی عطیات سے بنائے گئے سکول، ہسپتال، فلاحی ادارے اور دیگر جائیدادیں حکومت کے کنٹرول میں آ سکتی ہیں۔ یہ خدشات خاص طور پر کیرالہ اور میزورم میں شدید ہیں، جہاں بہت سی عیسائی تنظیمیں بڑے تعلیمی اور صحت کی دیکھ بھال کے ادارے چلاتی ہیں جو طویل عرصے سے غیر ملکی امداد پر منحصر ہیں۔ تاہم، حکومت نے ان مجوزہ ترامیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شفافیت لانے، نگرانی کو مضبوط بنانے اور غیر ملکی فنڈز کے استعمال میں زیادہ احتساب کو یقینی بنانے کے اقدامات ہیں۔

Source: Admin

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Popular in National

بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ

بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ

10 months ago

بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ

بریلی میں جُمعہ کی نماز کے بعد ہنگامہ، ’آئی لو محمد‘ پوسٹر تنازع پر پولیس کا لاٹھی چارج، حالات کشیدہ

10 months ago
وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک

وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک

10 months ago

وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک

وقف قانون پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، کچھ دفعات پر لگائی روک

10 months ago
بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال

بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال

10 months ago

بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال

بھارت میں آج لگے گا چاند گرہن، اتنے بجے شروع ہوگا “سوتک” کال

10 months ago
آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں

آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں

10 months ago

آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں

آنکھ کھلتے ہی مہنگائی کا دھچکا، تیل کمپنیوں نے گیس سلنڈر کی قیمتیں بڑھا دیں

10 months ago
سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے

10 months ago

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے

سی پی رادھاکرشنن نائب صدر جمہوریہ منتخب قرار دیے گئے

10 months ago
جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے

جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے

11 months ago

جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے

جی ایس ٹی میں اب 5 فیصد اور 18 فیصد کے دو سلیب، 22 ستمبر سے لاگو ہوں گے

11 months ago

Related Articles

Discussion

Comment
Your View

We'd love to hear your perspective on this article. Join the conversation and share your thoughts below!

Post your comment

0 Comments

No comments

Trending Videos
Instagram
X (Twitter)
LinkedIn