لبانی وزارت صحت نے جمعرات کی صبح اعلان کیا کہ بیروت کے ساحلی علاقے الرملہ البیضاء پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔ یہ حملہ اس کے صرف چند گھنٹے بعد ہوا جب اسرائیل نے دارالحکومت کے قلب میں ایک اور حملہ کیا۔ وزارت صحت کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے بیان کے مطابق:بیروت کے الرملہ البیضاء میں دشمن اسرائیل کے حملے کے ابتدائی طور پر سات شہری ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔ اس علاقے میں سیکڑوں بے گھر افراد نے الرملہ البیضاء کے ساحل کو اپنا پناہ گاہ بنایا تھا، کیونکہ انہیں جنوبی بیروت اور جنوب لبنان کے گھروں سے اسرائیلی انتباہات پر منتقل ہونے کا کہا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر منظرنامہ خوف و ہراس کا عکاس تھا، جہاں ریسکیو ٹیمیں زخمیوں کو بچانے کی کوشش کر رہی تھیں اور کئی گاڑیاں بھی تباہ ہو چکی تھیں۔ یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں تیسرا حملہ ہے، جس نے گزشتہ دنوں شہر کے وسط میں ایک فلیٹ اور سمندر کے کنارے ایک ہوٹل کا کمرہ بھی نشانہ بنایا تھا۔ ادھر حزب اللہ نے جمعرات کی صبح تل ابیب کے مضافات میں 8200 انٹیلی جنس یونٹ کے مرکز پر نوعی راکٹ داغنے کا اعلان کیا۔ یہ حملہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف جاری فوجی کارروائی کا تازہ اقدام ہے، جس کے جواب میں اسرائیل نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے 10 اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ تنازع مشرق وسطیٰ کی جنگ کا حصہ ہے، جس کی شروعات اس وقت ہوئی جب حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے کیے اور ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے بعد امریکی-اسرائیلی حملے شروع ہوئے۔ لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 630 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ