International

برطانیہ میں مُردہ خاتون کی بچہ دانی سے پیوندکاری کے بعد پہلے بچے کا جنم، ’ایک معجزہ ہے‘

برطانیہ میں مُردہ خاتون کی بچہ دانی سے پیوندکاری کے بعد پہلے بچے کا جنم، ’ایک معجزہ ہے‘

لندن میں ایک غیرمعمولی طبی کامیابی نے تاریخ رقم کر دی ہے، جہاں ایک برطانوی خاتون نے مُردہ ڈونر سے منتقل کی گئی بچہ دانی کے ذریعے ایک بچے کو جنم دیا ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق نومولود بچے، ہیگو پاؤل، کی پیدائش کو جدید طب کا معجزہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بچہ کوئین شارلٹس اینڈ چیلسی ہسپتال، لندن میں پیدا ہوا، جس کا وزن 3.09 کلوگرام تھا۔ ہیگو کی والدہ، گریس بیل، بچپن سے ہی سنڈروم کا شکار تھیں، جس کے باعث ان کی بچہ دانی یا تو موجود نہیں تھی یا پوری طرح نشوونما نہیں پا سکی تھی۔ نوعمری میں انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ کبھی حاملہ نہیں ہو سکیں گی، تاہم بچہ دانی کی کامیاب پیوندکاری نے ان کی زندگی بدل دی۔ بیل نے اپنے بیٹے کی آمد کو ’ایک معجزہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ممکن ہوگا۔ زندگی میں پہلی بار اتنی خوشی محسوس کر رہی ہوں۔‘ گریس بیل نے 2024 میں پیوندکاری کے چند ماہ بعد علاج کا آغاز کیا اور دسمبر 2025 میں بچے کو جنم دیا۔ بیل نے جذباتی انداز میں بچہ دانی کے ڈونر اور اس کے خاندان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’میں روزانہ اپنے ڈونر کے بارے میں سوچتی ہوں۔ ان کی فیملی کی سخاوت نے میرا زندگی بھر کا خواب پورا کیا ہے۔‘ ڈونر کے دیگر پانچ اعضا بھی چار مختلف افراد میں منتقل کیے گئے، جس سے کئی زندگیاں محفوظ ہوئیں۔ ڈونر کے والدین نے اپنی جذباتی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی کا کھو جانا ناقابلِ بیان صدمہ تھا، تاہم اعضا کی عطیہ دہی نے امید، وقت اور نئی زندگی کے تحفے کو جنم دیا ہے۔ گریس اور ان کے شریکِ حیات سٹیو پاؤل نے اپنے بیٹے کا درمیانی نام رچرڈ رکھا، تاکہ پروفیسر رچرڈ سمتھ، جو ومب ٹرانسپلانٹ یوکے کے کلینیکل لیڈ اور اس عمل کے سرکردہ سرجن ہیں، کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ سمتھ نے اسے ’ناقابلِ یقین سفر‘ قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں مردہ ڈونر سے بچہ دانی کی پیوندکاری کے ذریعے اب تک25 سے 30 بچے پیدا ہو چکے ہیں، جبکہ زیادہ تر پیوندکاریاں زندہ ڈونرز کے ذریعے کی جاتی ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments