روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ اب برطانیہ، برطانیہ عظمیٰ نہیں رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ دنیا میں واحد ملک ہے جو اپنا نام عظیم برطانیہ یا برطانیہ عظمیٰ لکھتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا 'میں یہ سمجھتا ہوں کہ برطانیہ کو اب صرف برطانیہ ہی کہا جانا چاہیے کیونکہ برطانیہ عظمیٰ اس ملک کی طرف سے خود کو کہلوانے کی کوشش ہے۔' انہوں نے منگل کے روز ان خیالات کا اظہار اس وقت کیا جب وہ گرین لینڈ کے بارے میں رپورٹرز سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا اپنے آپ کو عظیم کہنے والے ملک کی مثال معمر قذافی کے زیر قیادت عظیم سوشلسٹ پیپلز لیبیا کی ہے۔ لیکن وہ اب موجود نہیں ہے۔ یاد رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ماسکو تعلقات کی بحالی کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان امن کوششیں کر رہا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ روس یورپ کے لیے خطرہ ہے۔ روس یوکرین جنگ کے دوران روس اور مغربی ملک ایک دوسرے پر جاسوسی کا الزام بھی لگاتے رہے ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ