International

برطانیہ کا ایران کیخلاف اپنے فوجی اڈے امریکا کو دینے سے انکار

برطانیہ کا ایران کیخلاف اپنے فوجی اڈے امریکا کو دینے سے انکار

برطانیہ نے ایران کے خلاف اپنے فوجی اڈے امریکا کو دینے انکار کر دیا۔ برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف میں شائع مضمون کے مطابق برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے امریکا کو اپنے فضائی اڈوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران پر ممکنہ فضائی حملے کے لیے برطانیہ سے برطانوی رائل ایئر فورسز کے بیسز استعمال کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن برطانوی حکومت نے قانونی خدشات کے باعث اس کی منظوری نہیں دی۔ برطانوی حکومتی وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا برطانوی ایئر بیسز سے ایران پر حملہ کرتا ہے تو برطانیہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ایک فیصلے کے مطابق اگر کسی ملک کو ’غیر قانونی کارروائی کے حالات‘ کا علم ہو اور وہ اس میں شریک ہو، تو اسے بھی ذمہ دار سمجھا جائے گا۔ برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ ہرمر نے پہلے بھی مشورہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف کسی پیشگی حملے میں برطانیہ کا کردار غیر قانونی ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ صرف اپنے اثاثوں یا اتحادیوں کا دفاع کرے۔ امریکا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کر رہا ہے، جو 2003 کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ امریکی حکام نے ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے کا ذکر کیا ہے، جو برطانیہ کے زیر انتظام ہے لیکن امریکا کو اس کے استعمال کے لیے صرف اطلاع دینا ہوتی ہے، اجازت لینا نہیں ہوتی۔ سر کیئر اسٹارمر کی حکومت نے حال ہی میں ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت برطانیہ ڈیاگو گارشیا سمیت چاگوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرے گا اور امریکا کو 99 سال کے لیے بیس لیز پر دیا جائے گا۔ ٹیلی گراف نے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کسی بھی ’پیشگی حملے‘ میں شامل نہیں ہوگا۔ برطانوی وزارتِ دفاع نے خطے میں اضافی لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں تاکہ اگر ایران جوابی کارروائی کرے تو برطانوی اور اتحادی اثاثوں کا دفاع کیا جا سکے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments