برطانیہ کے جنگی جہاز خلیج عرب سے واپس روانہ ہوگئے۔ ابوظبی سے اماراتی میڈیا کے مطابق 1980 کے بعد پہلی بار خلیج عرب میں برطانوی جنگی جہاز مستقل موجود نہیں ہوگا۔ آخری برطانوی جہاز مائن سوئیپر بھی مارچ میں بحرین سے روانہ ہوگا۔ برطانوی جنگی جہاز فریگیٹ گزشتہ سال کے آخر میں واپس بلایا جا چکا ہے۔ دفاعی بجٹ میں کمی کے باعث برطانوی بحریہ کو جنگی جہازوں کی کمی کا سامنا ہے۔ ممکنہ جنگ کی صورت میں بڑا جنگی جہاز بھیجا جا سکتا ہے، تاہم فوری منصوبہ موجود نہیں ہے۔ اماراتی میڈیا کے مطابق بغیر عملے والی کشتیوں اور ڈرون ٹیکنالوجی سے سمندری نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بحرین میں برطانوی فوجی ہیڈ کوارٹرز بدستور فعال رہے گا۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ