International

بونڈائی حملے کے تناظر میں فلسطینی-آسٹریلوی مصنفہ آرٹس فیسٹیول سے خارج

بونڈائی حملے کے تناظر میں فلسطینی-آسٹریلوی مصنفہ آرٹس فیسٹیول سے خارج

آسٹریلیا کا معروف ایڈیلیڈ فیسٹیول ایک فلسطینی-آسٹریلوی مصنفہ کو مسترد کر دینے کے بعد فنکاروں کی دستبرداری اور بورڈ سے استعفیٰ دینے کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔ مذکورہ مصنفہ کو شرکت سے انکار بونڈائی بیچ حملے سے پیدا شدہ "ثقافتی حساسیت" کی بنا پر کیا گیا ہے۔ متعدد فنکاروں نے مبینہ طور پر اپنے دعوت نامے پھاڑ دیے ہیں، کئی بورڈ ممبران بشمول فیسٹیول کی سربراہ نے استعفیٰ دے دیا ہے اور مصنفہ کے وکلاء نے وضاحت طلب کی ہے۔ تمام دنیا کے فنکاروں کو راغب کرنے والی آسٹریلیا کی سب سے بڑی سالانہ ثقافتی تقریب میں گذشتہ ہفتے ایک طوفان برپا ہو گیا جب رندۃ عبدالفتاح کو بتایا گیا کہ تقریب کے رائٹرز ویک میں ان کی شرکت "کی خواہش نہیں" تھی۔ "اگرچہ ہم کسی بھی طرح سے یہ تجویز نہیں کرتے کہ ڈاکٹر رندۃ عبدالفتاح یا ان کی تحریرات کا بونڈائی سانحے سے کوئی تعلق ہے لیکن ان کے ماضی کے بیانات کے پیشِ نظر ہم نے یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ بونڈائی کے بعد اتنی جلدی اس بے مثال موقع پر ان کی شرکت جاری رکھنا ثقافتی طور پر حساس نہیں ہو گا۔" فیسٹیول نے ایک بیان میں کہا۔ فیسٹیول بورڈ نے کہا کہ وہ 14 دسمبر کے بونڈائی سانحے پر "حیران اور رنجیدہ" ہےاور عبدالفتاح کو خارج کرنے کے فیصلے کو غیر سنجیدہ نہیں لیا گیا تھا۔ لیکن مسترد کردہ مصنفہ اور ماہرِ تعلیم نے کہا کہ یہ "فلسطین مخالف نسل پرستی کا ایک صریح اور نامعقول عمل ہے۔" انہوں نے ایک بیان میں کہا، یہ "مجھے بونڈائی کے باشندوں کے قتلِ عام سے جوڑنے کی ایک مکروہ کوشش تھی۔" ان کے قانونی نمائندگان مارک لائرز نے اتوار کو میلے کو ایک خط بھیجا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ مصنفہ کے ان بیانات کی نشاندہی کی جائے جن کو جواز بنا کر انہیں خارج کیا گیا۔ مارک لائرز کے منیجنگ پارٹنر مائیکل بریڈلی نے کہا کہ میلے نے عبدالفتاح کے انسانی حقوق کو "روندا" ہے اور بورڈ کو اس کا جواب دینا ہو گا۔ عبد الفتاح کو اکتوبر 2024 میں ایکس پر ایک پوسٹ سمیت کچھ بیانات پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس میں انہوں نے کہا تھا: "مقصد نوآبادیات کو قبضے سے آزاد کروانا اور اس قاتل صہیونی کالونی کا خاتمہ ہے۔" مقامی میڈیا نے کہا کہ ان کے اخراج کے باعث 70 سے زائد شرکاء میلے سے دستبردار ہو گئے جو 27 فروری سے 15 مارچ تک جاری رہے گا۔ ان میں مصنف اور یونان کے سابق وزیرِ خزانہ Yanis Varoufakis بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی دعوت نامہ پھاڑنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔ ایڈیلیڈ فیسٹیول بورڈ کے تین ارکان نے مبینہ طور پر ہفتے کے روز ایک غیر معمولی اجلاس میں اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ اتوار کو فیسٹیول کی چیئر ٹریسی وائٹنگ نے بھی فوری طور پر مستعفی ہو جانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، "حالیہ فیصلے بعض اقدامات کے پابند تھے اور میرا استعفیٰ ایڈیلیڈ فیسٹیول کے لیے یہ ممکن بناتا ہے کہ وہ بطورِ تنظیم اپنی قیادت اور ان حالات میں اپنے نکتۂ نظر کو نئی شکل دے۔" جنوبی آسٹریلیا کے پریمیئر پیٹر مالیناسکاس نے کہا کہ انہیں بورڈ کے فیصلے کرنے سے قانونی طور پر روکا گیا تھا۔ "البتہ جب میری رائے لی گئی تو مجھے یہ واضح کرتے ہوئے خوشی ہوئی کہ ریاستی حکومت نے ایڈیلیڈ رائٹرز ویک پروگرام میں ڈاکٹر عبدالفتاح کو شامل کرنے کی حمایت نہیں کی،" انہوں نے مقامی میڈیا کو بتایا۔ ایڈیلیڈ فیسٹیول نے کہا کہ اس نے رائٹرز ویک میں شرکاء اور تقریبات کی فہرست "عارضی طور پر غیر مطبوعہ" کر دی تھی جبکہ یہ اپنی ویب سائٹ میں تبدیلیوں پر کام کر رہا ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments