بنگلا دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے گزشتہ روز قوم سے الوداعی خطاب میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کر دیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 85 سالہ نوبیل امن انعام یافتہ رہنما نے قوم سے خطاب میں کہا کہ آج عبوری حکومت مستعفی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت، آزادیٔ اظہار اور بنیادی حقوق کی جو مشق شروع ہوئی ہے، اسے رُکنا نہیں چاہیے۔ واضح رہے کہ محمد یونس اگست 2024ء میں خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس آئے تھے۔ ان کی یہ واپسی اس وقت ہوئی تھی جب سابقہ وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی سخت گیر حکومت کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک نے اقتدار سے ہٹا دیا تھا، وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ محمد یونس نے اس دن کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ عظیم آزادی کا دن تھا، کیا ہی خوشی کا دن تھا، دنیا بھر میں بنگلا دیشیوں نے خوشی کے آنسو بہائے، ہمارے نوجوانوں نے ملک کو ایک عفریت کی گرفت سے آزاد کرایا۔ انہوں نے اس کے بعد بطور چیف ایڈوائزر بنگلا دیش کی قیادت کی اور اب گزشتہ ہفتے ہونے والے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی پر بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے قائد طارق رحمٰن کو مبارکباد دیتے ہوئے اقتدار منتقل کر دیا۔ محمد یونس نے کہا کہ عوام، ووٹرز، سیاسی جماعتوں اور انتخابی عمل سے وابستہ اداروں نے قابلِ تحسین مثال قائم کی ہے، یہ انتخابات آئندہ کے لیے ایک معیار طے کر گئے ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ