International

بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کی نمازِ جنازہ،

بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کی نمازِ جنازہ،

بدھ کو دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی قومی پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ایک جمِ غفیر جمع ہو گیا۔ خالدہ ضیاء ایک دن قبل طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ ڈھاکہ اور دیگر مقامات سے لوگ جوق در جوق صبح سویرے سے ہی پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر مانک میا ایونیو پر واقع پنڈال کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ضیاء کے جنازے میں ملک کے طول و عرض سے لاکھوں کی تعداد میں ان کے حامیوں اور لوگوں کے ساتھ ساتھ بھارت اور پاکستان کے معززین کی بھی ڈھاکہ آمد متوقع تھی۔ انہیں بدھ کے روز بعد میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر ایک پارک میں ان کے شوہر اور ملک کے سابق صدر کی قبر کے پاس دفن کیا جانا ہے۔ ضیاء الرحمٰن کو 1981 میں فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا تھا۔ خالدہ ضیاء اپنے شوہر کی وفات کے بعد سیاست میں آئیں اور ایک سابق فوجی آمر کے خلاف نو سالہ تحریک کے دوران اپوزیشن لیڈر کے طور پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ مذکورہ فوجی آمر کو 1990 میں ایک عوامی بغاوت میں معزول کر دیا گیا تھا۔ ضیاء پہلی بار 1991 میں وزیرِ اعظم بنیں جب ملک میں پارلیمانی جمہوریت متعارف کروائی گئی اور انہیں جمہوری طور پر منعقدہ قومی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی ملی۔ وہ اپنی وفات تک بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی رہنما رہیں۔ تحمل مزاجی کے لیے معروف خالدہ ضیاء کی سابق وزیرِ اعظم اور سیاسی حریف شیخ حسینہ کے خلاف ایک مضبوط سیاسی مخاصمت برقرار رہی۔ بنگلہ دیش عوامی لیگ کی سربراہ حسینہ نے 15 سال تک ملک پر حکومت کی۔ پھر 2024 میں ایک عوامی بغاوت کے نتیجے میں انہیں اقتدار سے معزول کر دیا گیا۔ خالدہ ضیاء کا بنگلہ دیش کے قومی پرچم میں لپٹا ہوا تابوت سکیورٹی اہلکاروں اور ان کے حامیوں نے ہسپتال سے ان کی رہائش گاہ اور پھر جنازے کے مقام تک پہنچایا۔ حکام نے بتایا کہ بدھ کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 10,000 سکیورٹی اہلکاروں بشمول سپاہیوں کو جنازے کے پنڈال کے ارد گرد تعینات کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے تین روزہ سوگ اور جنازے کی سہولت کے لیے بدھ کو عام تعطیل کا اعلان کر دیا۔ خالدہ ضیاء ملک کی اولین خاتون وزیرِ اعظم تھیں جنہوں نے دو مرتبہ مکمل مدت اور ایک اور مختصر مدت کے لیے خدمات انجام دیں۔ ان کے احترام میں بدھ کو پورے ملک میں قومی پرچم سرنگوں رکھے گئے تھے۔ خالدہ ضیاء کے بڑے بیٹے طارق رحمٰن ان کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے قائم مقام سربراہ ہیں جو فروری میں ہونے والے ملک کے اگلے انتخابات میں صفِ اوّل کی جماعت ہے۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments