International

بنگلہ دیش انتخابات: ابتدائی نتائج کے مطابق بی این پی اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ

بنگلہ دیش انتخابات: ابتدائی نتائج کے مطابق بی این پی اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ

بنگلہ دیش کے انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق جمعرات کو ہونے والے بنگلہ دیش کے اہم قومی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعتِ اسلامی کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ یہ انتخابات 2024 میں جنریشن زی کی قیادت میں کامیاب تحریک کے بعد پہلے قومی انتخابات ہیں، جس نے طویل عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والی شیخ حسینہ کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 17 کروڑ 50 لاکھ آبادی والے ملک میں استحکام کے لیے واضح انتخابی نتیجہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ شیخ حسینہ مخالف مہلک مظاہروں نے کئی ماہ تک روزمرہ زندگی اور بڑی صنعتوں، خصوصاً گارمنٹس سیکٹر (جو دنیا کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ہے)، کو متاثر کیا۔ یہ انتخاب دو سابق اتحادی جماعتوں، بی این پی اور جماعتِ اسلامی، کے اتحادوں کے درمیان ہو رہا ہے، اور رائے عامہ کے جائزوں میں بی این پی کو معمولی برتری حاصل دکھائی گئی ہے۔ مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق ابتدائی رجحانات میں تقریباً 20 نشستوں میں سے بی این پی 10 اور جماعتِ اسلامی 7 نشستوں پر آگے تھی۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ، جاتیہ سنگسد، کی کل 300 نشستیں ہیں اور سادہ اکثریت کے لیے 151 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ ٹرن آؤٹ 2024 کے گزشتہ انتخابات میں ریکارڈ کیے گئے 42 فیصد سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق 60 فیصد سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔ دونوں وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار، بی این پی کے طارق رحمان اور جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمن، نے اپنی کامیابی پر اعتماد کا اظہار کیا۔ طارق رحمان نے صحافیوں سے کہا کہ ’مجھے اپنی جیت کا پورا یقین ہے۔ عوام میں ووٹنگ کے حوالے سے جوش و خروش پایا جاتا ہے۔‘ شفیق الرحمن نے انتخابات کو بنگلہ دیش کے لیے ’ایک اہم موڑ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments