عراق میں سالہا سال سے قائم امریکی فوجی اڈے عین الاسد ایئربیس سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے ساتھ ہی عراقی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ عراقی فوج نے اس اڈے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ یہ امریکی فوجی اڈہ جس پر سینکڑوں عراقی فوجی کئی سال تک موجود رہے ہیں عراق کے مغربی حصے میں قائم تھا۔ تاہم 2024 میں امریکہ و عراق کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا تھا۔ جس کے تحت امریکہ نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس کے زیر قیادت اتحادی افواج عراق کا یہ فوجی اڈہ واپس کر کی چلی جائیں گی۔ مختلف ذرائع کے مطابق اس اڈے پر 2700 کے قریب امریکی و اتحادی فوجی موجود تھے۔ مگر پچھلے برسوں میں یہ تعداد بڑھنے کی اطلاعات بھی آئیں جب غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران اس اڈے کو علاقائی گروپوں سے خطرہ درپیش ہوا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا منصوبہ تیار ہوا۔ ادھر شام میں بھی امریکی فوجی اڈے پر لگ بھگ ایک ہزار فوجی نفری کی موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ