ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک کے اندر تنقید کے بعد اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں امریکی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو ہم اپنا جائز ہدف سمجھتے ہیں۔ صدر پزشکیان نے اپنے نئے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے اپنے دوست ہم سایہ ممالک پر نہیں بلکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تنصیبات اور فوجی اڈوں سے ایران کے خلاف جارحیت کی گئی، اس لیے ان تنصیبات اور فوجی اڈوں کو ہم اپنا جائز ہدف سمجھتے ہیں۔ ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ہم اپنے ملک کے دفاع اور مزاحمت کے لیے آخری سانس تک کھڑے ہیں، ہم علاقائی ریاستوں سے دوستانہ تعلقات چاہتے ہیں، یہ خواہش امریکا سے مقابلے میں ایران کے حقِ دفاع کی نفی نہیں کرتی۔ اس سے پہلے ایرانی صدر نے ٹیلے ویژن خطاب میں ایرانی حملوں میں نشانہ بننے والے پڑوسی ملکوں سے معذرت کی تھی۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملکوں کے خلاف اب تک کوئی جارحیت نہیں کی گئی لیکن اگر ایران پر حملے جاری رہے تو تمام امریکی فضائی اڈے اور امریکی مفادات ایران کے نشانے پر ہوں گے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ