ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا سامنا ہوتے ہی میدانِ جنگ چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں لکھا کہ اس بحری جہاز کو لے کر بہت شور مچایا گیا تھا تاکہ ایران پر دباؤ ڈالا جا سکے، لیکن یہ جہاز ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا سامنا ہوتے ہی پیچھے ہٹ گیا۔ قالیباف نے کہا کہ جو جہاز امریکہ کے اتحادیوں کی سیکورٹی اور استحکام کا محافظ سمجھا جاتا تھا، وہ چند ڈرونز کا مقابلہ بھی نہ کر سکا اور علاقے سے نکل گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کے اتحادیوں اور میڈیا کو اس معاملے کی تحقیق کرنی چاہیے تاکہ وہ اپنی سلامتی اور امریکی فوجیوں کی جان کو ٹرمپ اور نیتن یاہو کے بیانات سے وابستہ نہ کریں۔ اس سے ایک روز قبل بھی قالیباف نے کہا تھا کہ اگر امریکی ٹیکس دہندگان کو یہ معلوم ہو جائے کہ دفاعی ترجیحات میں ”اسرائیل فرسٹ“ کی پالیسی اختیار کی گئی ہے تو وہ حیران رہ جائیں گے۔ ان کے مطابق امریکی مفادات اور فوجیوں کو غیر محفوظ چھوڑنے کے نتائج صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ