غیر ملکی جریدے الجزیرہ نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ ایران بظاہر اپنی حکمت عملی تبدیل کر کے عالمی اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کی طرف جاتا نظر آرہا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کی پروفیسر روکسین فرمان کے مطابق خلیجی ملکوں پر حملے کر کے امریکا کو جنگ بند کرنے پر آمادہ کرنے کی ایرانی پالیسی کام کرتی نظر نہیں آرہی۔ لیکن ایرانی پالیسی نے خطے کے ڈائنامکس تبدیل کردیے ہیں۔ ایران نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ نہ صرف دنیا میں تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کرسکتا ہے، بلکہ آبنائے ہُرمُز کی بندش سے آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت کو روک سکتا ہے۔ روکیسن فرمان نے کہا کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی فجیرہ پورٹ پر حملہ ہوچکا، ایران کا اگلا ممکنہ ہدف سعودی عرب سے بحیرہ احمر جانے والی تیل کی پائپ لائنیں ہوسکتی ہیں۔ روکسین فرمان نے کہا کہ سعودی پائپ لائنوں پر حملوں کا امکان بہت قوی ہے، کیوں کہ اب خلیج پر حملہ اصل ہدف نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ خلیج اور دنیا میں جنم لینے والے اس درد کو واشنگٹن میں وہاں کی اسٹاک مارکیٹ اور پمپس پر محسوس کیا جاتا رہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ