امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی نظام کی متحرک میزائل داغنے کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے اپنی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ وہ ان پلیٹ فارمز کی نگرانی اور ان کا پتہ لگا کر انہیں درستی کے ساتھ تباہ کر رہی ہے۔ اس تناظر میں امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے میزائلوں کا ذخیرہ اب بھی زیرِ زمین اڈوں اور تنصیبات میں موجود ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ان مقامات سے واقف ہیں۔ اخبار نے واضح کیا کہ امریکی اور اسرائیلی طیارے، بشمول نگرانی کرنے والے ڈرونز، ان اڈوں کے اوپر پرواز کرتے رہتے ہیں اور میزائل لانچرز کو سرنگوں سے باہر نکلتے ہی نشانہ بناتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اپنی ضربوں کو جنوبی ایران میں میزائل اڈوں پر مرکوز کر رہا ہے، جبکہ اسرائیلی فضائیہ ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں پر توجہ دے رہی ہے۔ اخبار نے ایک ایرانی عہدے دار کے حوالے سے بتایا کہ تہران تباہ شدہ لانچروں کو تیزی سے تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگرچہ زیرِ زمین قائم نام نہاد "میزائل شہر" اب ایک کمزور نقطہ بن چکے ہیں۔ اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے ایران کے علاقے قم میں بیلسٹک میزائل داغنے والے ایک پلیٹ فارم پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا، جو اسرائیل کی طرف فائرنگ کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اسی طرح اسرائیلی فوج نے اصفہان میں ایک دفاعی نظام کو بھی تباہ کیا جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ وہ ان کے طیاروں کو نشانہ بنا رہا تھا۔ اسی سیاق میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ کا گروپ بحیرہ روم سے چوبیس گھنٹے ایران کے خلاف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ کمانڈ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ایک اور امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ امریکی افواج سمندر کی طرف سے ایران پر فوجی دباؤ بڑھا رہی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک سرکاری بیان میں اسرائیل اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملوں کی 19ویں لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق ان حملوں میں عراق کے صوبے کردستان میں ایرانی کرد گروہوں کے صدر دفاتر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے برعکس ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی پانیوں میں پیشگی اطلاع کے بغیر ایک ایرانی بحری جہاز (فریگیٹ) کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس جہاز کی میزبانی بھارتی بحریہ کر رہی تھی اور اس پر تقریباً 130 ملاح سوار تھے۔ عراقچی نے مزید کہا کہ واشنگٹن کو اس حملے پر سخت پچھتاوا ہوگا۔ انھوں نے اشارہ دیا کہ ایک امریکی آبدوز نے خلیجی علاقے سے ہزاروں میل دور سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب اس جہاز پر بمباری کی ہے۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ