International

’’ ایرانی بحریہ کے سربراہ کا قتل ‘‘ کیا افواہوں کی جنگ شروع ہوگئی؟

’’ ایرانی بحریہ کے سربراہ کا قتل ‘‘ کیا افواہوں کی جنگ شروع ہوگئی؟

جنوبی ایران کی بندرگاہ بندر عباس میں دھماکے کے ساتھ ساتھ، سوشل میڈیا بالخصوص ٹیلی گرام پر ایرانی بحریہ کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا تنگسیری کے قتل سے متعلق افواہیں پھیل گئیں۔ تاہم ایرانی حکام نے کسی بھی قسم کے قتل کی تردید کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل بالکل خیریت سے ہیں۔ اسی دوران ایک باخبر ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ تنگسیری کی صحت بہتر ہے اور بحریہ کی کارروائیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ایرانی ذرائع کا خیال ہے کہ اس افواہ کو عوامی رائے عامہ کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے جان بوجھ کر پھیلایا گیا ہے۔ نیوز ایجنسی "مہر" کے مطابق حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ افواہ ایران کے مخالف حلقوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے جس کا مقصد افراتفری پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ افواہ مخالف لہروں کے ذریعے نفسیاتی آپریشن کے فریم ورک کے تحت دوبارہ پھیلائی گئی جس کا مقصد عوامی رائے عامہ کو پریشان کرنا اور قومی حوصلے کو کمزور کرنا ہے۔ گزشتہ عرصے کے دوران کئی ایرانی اور عسکری حکام نے بارہا کہا تھا کہ ملک کے اندرونی استحکام کو متزلزل کرنے اور افواہیں پھیلانے کے لیے بیرونی مہمات چلائی جا رہی ہیں۔ قبل ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کے روز ان مہموں کے بارے میں بات کی جن کا مقصد ملک میں خانہ جنگی کو ہوا دینا اور لوگوں کو بھڑکانا ہے۔ واضح رہے نیول کمانڈر کے قتل کی افواہ رات کے اوقات میں ٹیلی گرام چینلز کے ذریعے شروع ہوئی جس میں ان کی موت کا دعویٰ کیا گیا۔ بعد میں بندر عباس شہر میں ایک رہائشی عمارت میں ہونے والے دھماکے نے اس افواہ کو مزید تقویت دے دی۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ عرصے میں فوجی آپشن کی بار بار دھمکیوں نے بھی اس افواہ کے اثرات کو بڑھا دیا۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگون نے صدر کے سامنے کئی آپشنز رکھے ہیں جن میں بینکوں یا سرکاری اداروں پر سائبر حملے بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل ایرانی حکام حساس ادوار ، جن میں گزشتہ موسم گرما میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ اور خاص طور پر جون میں 12 روز تک جاری رہنے والے اسرائیلی حملے سے پہلے کی صورتحال شامل ہے، کے دوران ہمیشہ افواہوں کی جنگ سے خبردار کرتے رہے ہیں۔ واضح رہے "افواہوں کی جنگ" عام طور پر ان مشہور نفسیاتی جنگوں میں شمار ہوتی ہے جو ریاستوں اور حریفوں کے درمیان تنازعات یا جھگڑوں کے دوران استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم آج ڈیجیٹل دور، تکنیکی ترقی اور سوشل میڈیا کے پھیلاؤ میں یہ کبھی عدم استحکام پیدا کرنے اور کبھی مطلوبہ بیانیے کو فروغ دینے کے لیے اہم حربوں میں سے ایک بن گئی ہے۔ اسی طرح سائبر حملے بھی ان نفسیاتی جنگوں کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments