International

ایران: صدر کے جوہری مذاکرات کے لیے احکامات کی خبر نیوز ایجنسی نے واپس لے لی

ایران: صدر کے جوہری مذاکرات کے لیے احکامات کی خبر نیوز ایجنسی نے واپس لے لی

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے 'فارس' نے پیر کے روز اپنی اس رپورٹ کو واپس لے لیا ہے جس میں بیان کیا گیا تھا کہ صدر مسعود پیزشکیان نے حکم دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات شروع کیے جائیں۔ یہ رپورٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران کے ساتھ جوہری امور پر سمجھوتہ ہوجائے گا اور امریکہ کو فوجی طاقت استعمال نہیں کرنا پڑے گی۔ امریکہ کی ایران کے ساتھ کشیدگی کی نئی لہر ان مظاہرین کی بظاہر حمایت میں شروع ہوئی جو 28 دسمبر 2025 سے ابتدائی طور تاجروں اور دکانداروں کی صورت میں افراط زر اور مہنگائی کے خلاف احتجاج کی صورت سڑکوں پر آئے تھے۔ تاہم آہستہ آہستہ یہ احتجاج مہنگائی کے خلاف نہ رہا اور ایرانی حکومت کے خلاف ایک بڑی ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر گیا۔ اس احتجاج کو امریکہ اور یورپی یونین کے علاوہ اسرائیل نے بھی بھرپور حمایت دینے کا اعلان کر رکھا ہے اور ایرانی حکومت کے خلاف انقلاب ایران کے بعد سے اب تک کا سب سے زیادہ مؤثر اور خطرناک احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے جاری اپنی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ اس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ تہران کے ساتھ سمجھوتہ ممکن ہوجائے گا اور ساتھ یہ کہا ہے کہ وہ سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ جوابا صدر مسعود پیزشکیان نے اپنے ایک بیان میں امریکہ کے ساتھ جوہری امور پر مذاکرات کا حکم دیا جسے 'فارس' نامی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے پیر ہی کے روز رپورٹ کیا۔ اس رپورٹ کے مطابق ایران امریکہ کے ساتھ جوہری امور پر مذاکرات کرے گا۔ اگرچہ 'فارس' نیوز ایجنسی نے اس کے لیے کسی خاص تاریخ اور ڈیڈ لائن کا تعین اپنی رپورٹ میں نہیں کیا ہے۔ مگر بعدازاں اسی روز 'فارس' نیوز ایجنسی نے اپنی ویب سائٹ سے اس خبر کو ہٹا دیا۔ پیر کے روز اس سے قبل ایران کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے فریم ورک اور طریقہ کار پر کام کر رہا ہے اور امکان ہے کہ وہ اگلے دنوں میں مذاکرات کے لیے تیار ہوگا۔ جیسا کہ بعض علاقائی کھلاڑیوں کی طرف سے بھی دونوں اطراف میں پیغامات کا تبادلہ کیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس سلسلے میں کوئی تفصیلات جاری کیے بغیر کہا مذاکرات کے لیے کئی نکات کو سامنے رکھ کر ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور چیزوں کو حتمی شکل کی طرف لانے کے لیے تفصیلات پر غور کیا جا رہا ہے۔ جس میں ہر مرحلے کے لیے سفارتی عمل کا بھی ذکر ہے۔ ترجمان کے مطابق ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ عمل آنے والے دنوں میں مکمل ہوجائے گا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو یہ بھی دھمکی دے رکھی ہے کہ وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ اس لیے ایران کو چاہیے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ کرے جس کے بارے میں مغرب کا خیال ہے کہ ایران جوہری بم تیار کر رہا ہے۔ ایرانی ترجمان دفتر خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا 'ایران کبھی دباؤ قبول نہیں کر سکتا۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ اس طرح کا کوئی پیغام ایران کو دیا گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پچھلے ہفتے ترکیہ میں ملاقاتیں کیں۔ ان کی مصر، سعودی عرب اور ترک وزرائے خارجہ سے بھی گفتگو ہوئی جس کا انہوں نے بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹیلی گرام' پر ذکر کیا۔ عراقچی نے اتوار کے روز 'سی این این' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں اور ہم اس سے مکمل اتفاق کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اچھی ڈیل ہو سکتی ہے۔ بلاشبہ ہم اس کے بدلے میں توقع کرتے ہیں کہ ایران پر سے پابندیاں اٹھائی جائیں گی۔ اس لیے ڈیل ممکن ہو سکتی ہے۔ تاہم ہمیں ناممکن چیزوں کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہیے۔ ایرانی ترجمان نے پڑوسی ریاستوں کی طرف سے مسئلے کے سفارتی حل کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہم ان پر اعتماد کرتے ہیں اور انہوں نے جس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایران پر امریکی حملہ پورے خطے کو بدامنی میں دھکیل دے گا۔ ان ملکوں کا یہ کہنا ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے اس بیان کی تائید ہے جو انہوں نے اتوار کے روز دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر کیا گیا حملہ ایک علاقائی جنگ بن جائے گا۔ علی خامنہ ای نے ان سفیروں کو بھی بلایا جنہوں نے حالیہ مظاہروں کو بغاوت کی کوشش قرار دیا تھا۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے بین الاقوامی طاقتوں کا ہاتھ ہے جو تشدد اور ہنگامہ خیزی کی آگ بھڑکا رہے ہیں تاکہ ایرانی انقلاب کو تاریخ کے بدترین چیلنج سے دوچار کر سکیں۔ ایرانی حکام نے ان مظاہروں کے دوران 3117 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے 2986 ہلاک ہونے والے افراد کے نام بھی جاری کیے گئے ہیں جبکہ امریکہ میں قائم ایک این جی او 'ہرانا' نے ہلاکتوں کی تعدداد 6842 بتائی ہے۔ 'ہرانا' کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد مظاہرین کی ہے جبکہ سیکیورٹی اہلکار بھی ہلاکتوں میں شامل ہیں۔ یورپی یونین نے ان ہلاکتوں کا پاسداران انقلاب کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ اسماعیل بقائی نے پیر کے روز بتایا ہے کہ یورپی یونین کے سفیروں کو اس سلسلے میں طلب کر کے اپنے موقف سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق چار ایسے غیر ملکیوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو ہنگاموں اور دنگا فساد میں شامل تھے۔ تاہم سرکاری ٹی وی نے ان چاروں کے ملکوں کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔ ایرانی سیکیورٹی اداروں نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ مغربی این جی اوز کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم چالیس ہزار افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

Source: social media

Post
Send
Kolkata Sports Entertainment

Please vote this article

0 Responses
Best Rating Best
Good Rating Good
Okay Rating Okay
Bad Rating Bad

Related Articles

Post your comment

0 Comments

No comments