وارسا (19 فروری ): پولینڈ کے وزیر اعظم نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔ پولش وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے آج جمعرات کو اپنے بیان میں کہا کہ شہری فوری طور پر ایران چھوڑ دیں اور کسی بھی حالت میں اس ملک کا رخ نہ کریں۔ انھوں نے حالت کی سنگینی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خدشہ ہے چند گھنٹوں بعد انخلا ممکن نہ رہے۔ ٹسک نے وارسا کے قریب قصبے زیلونکا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’براہِ کرم فوری طور پر ایران چھوڑ دیں اور کسی بھی صورت اس ملک کا سفر نہ کریں۔ میں کسی کو خوف زدہ نہیں کرنا چاہتا، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ میرا اشارہ کس طرف ہے۔ تصادم کا امکان بالکل حقیقی ہے۔‘‘ وزیر اعظم نے خبردار کرتے ہوئے پولینڈ کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اس انتباہ کو سنجیدگی سے لیں، کیوں کہ انخلا کا موقع تیزی سے ختم ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ چند یا دس بارہ گھنٹوں بعد ہو سکتا ہے کہ انخلا ممکن ہی نہ رہے۔ ٹسک نے کہا کہ ماضی میں انخلا سے متعلق وارننگز کو نظر انداز کیا گیا تھا جس کے سنگین نتائج سامنے آئے۔ انھوں نے کہا ہمارے تلخ تجربات ہیں، کچھ لوگ ایسی اپیلوں کو کم اہمیت دیتے ہیں۔ ذرائع اور میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے ساتھ ایک اور فوجی محاذ آرائی کے قریب ہیں، حالاں کہ تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔ یاد رہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جون 2025 میں 12 روزہ جنگ ہوئی تھی، اس دوران امریکا نے ایران کے تین جوہری مقامات پر بمباری کی تھی۔
Source: social media
آج شب چاند عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا
امریکی صدر ٹرمپ کا چینی صدر کو طنز بھرا پیغام
غزہ امن معاہدے پر امریکا، قطر، ترکیہ اور مصر نے دستخط کر دیے
افغانستان میں زلزلے سے سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے: طالبان حکومت
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
افغانستان میں زلزلے سے 800 سے زیادہ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی
نیپال میں پولیس کی فائرنگ سے 20 مظاہرین ہلاک، 350 زخمی، وزیر داخلہ مستعفی
سلامتی کونسل میں صدر ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور
گوگل کا اسرائیلی پروپیگنڈا کو فروغ دینے کیلیے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ